LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا کی امریکہ سے ٹیرف معطل کرنے کی اپیل

News Image
کولمبیا کی حکومت نے تباہ کن زلزلے کے بعد بحالی کے کاموں کے لیے درکار بھاری اخراجات کے پیش نظر امریکہ سے درآمدی محصولات میں چھوٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ زلزلے سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ تقریباً 6.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس سے ملک کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
کولمبیا میں حالیہ شدید زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال نے ملک کو ایک سنگین معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے، جہاں تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں، کولمبیا کی حکومت نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک پر عائد کردہ درآمدی محصولات کو عارضی طور پر معطل کر دے تاکہ ملک اس معاشی دباؤ سے نکل کر بحالی کے عمل کو تیز کر سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی برآمدات اور محصولات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، کولمبیا کو اس وقت ہنگامی بنیادوں پر فنڈز کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں ہسپتالوں، اسکولوں اور مواصلاتی رابطوں کو بحال کیا جا سکے۔ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف اس وقت کولمبیا کی مصنوعات کی مسابقت کو عالمی منڈی میں کم کر رہے ہیں، جس سے ملک کی آمدنی کے ذرائع مزید محدود ہو گئے ہیں۔ کولمبیا کی قیادت کا مؤقف ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ تجارتی رکاوٹوں میں نرمی کرتی ہے تو اس سے نہ صرف کولمبیا کو ضروری وسائل حاصل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ معاشی بحالی کا عمل بھی پائیدار ہو سکے گا۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور مالیاتی اداروں سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے، تاہم امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بہتری کولمبیا کے لیے ترجیحی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے محصولات کو ہٹایا جاتا ہے تو یہ کولمبیا کے مقامی کاروباری طبقے کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہوگی، جو پہلے ہی قدرتی آفت کے باعث مالی نقصانات کا سامنا کر رہا ہے۔ فی الحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس مطالبے پر کسی حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس پر کولمبیا کے عوام اور صنعت کاروں کی گہری نظریں ہیں۔