LIVE
Loading Breaking News...

پینس فلرز کے استعمال کے نقصانات اور طبی حقائق

News Image
مردوں میں جسمانی اعضاء کی ظاہری بہتری کے لیے پینس فلرز کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جس کا مقصد وقتی طور پر سائز میں اضافہ کرنا ہے۔ ماہرینِ صحت نے اس طبی عمل سے وابستہ سنگین خطرات اور ممکنہ پیچیدگیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
دورِ حاضر میں مردوں کی جانب سے اپنی ظاہری شخصیت اور اعتماد کو بہتر بنانے کے لیے مختلف کاسمیٹک طریقہ کار کا انتخاب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہی میں سے ایک طریقہ پینس فلرز کا استعمال ہے، جس کی مانگ میں دنیا بھر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں انجیکشن کے ذریعے فلر مواد جسم کے نازک حصے میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ اس کی موٹائی میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ طریقہ کار عام طور پر ان افراد کی جانب سے اپنایا جاتا ہے جو اپنی جسمانی ساخت کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں یا محض عارضی طور پر اپنی جسمانی جسامت میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ اس طبی عمل کے نتائج کے حوالے سے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ فلرز مردوں کو تقریباً 10 سے 20 فیصد تک اضافی موٹائی فراہم کر سکتے ہیں، جس کا دورانیہ چھ سے نو ماہ تک محدود ہوتا ہے۔ اس کے بعد فلر کا اثر ختم ہونے لگتا ہے اور متاثرہ حصہ دوبارہ اپنی اصل حالت پر واپس آ جاتا ہے۔ تاہم، یہ عمل جتنا آسان محسوس ہوتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار کسی بھی مستند اور تربیت یافتہ ماہر کے بغیر کروانا جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ یہ حصہ انسانی جسم کے انتہائی حساس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ پینس فلرز کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ اس کے غلط استعمال اور جسمانی ردعمل کا ہے۔ کئی کیسز میں فلرز کے غلط انجیکشن سے انفیکشن، ٹشوز کو نقصان پہنچنے، سوجن اور مستقل خرابی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیر معیاری فلرز یا غیر جراثیم سے پاک آلات کا استعمال خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے، جو سنگین طبی ایمرجنسی پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرینِ صحت نے سختی سے تلقین کی ہے کہ کسی بھی قسم کی کاسمیٹک تبدیلی کروانے سے پہلے کسی مستند یورولوجسٹ یا سرجن سے مکمل مشاورت کرنی چاہیے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مردوں کی صحت صرف ظاہری بہتری تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ نفسیاتی سکون اور طویل مدتی صحت سے بھی جڑی ہے۔ ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ اکثر مردوں کو ان پروسیجرز کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور یہ فیصلہ محض بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ یا سوشل میڈیا کے غیر حقیقی معیارات کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ کسی بھی عمل کو اپنانے سے پہلے اس کے فوائد پر اس کے ممکنہ نقصانات کو ترجیح دینا ہی دانشمندی ہے۔