World
مارب میں حوثی حملے: یمنی حکومت کا شدید ردعمل اور مذمت
یمنی حکومت نے مارب کے رہائشی علاقوں پر حوثی باغیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہی ہیں۔
یمن کی حکومت نے سرکاری سطح پر مارب کے رہائشی علاقوں پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے شہری آبادی کو براہ راست نشانہ بنانا ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جو ملک میں جاری پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑنے کا سبب بن رہی ہے۔ سرکاری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اندھا دھند حملے عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں اور ان کے نتیجے میں انسانی مصائب میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔
مارب کا علاقہ، جو کہ جنگ سے متاثرہ بے گھر افراد کے لیے ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، حالیہ دنوں میں شدید گولہ باری کا شکار رہا ہے۔ یمنی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے شہری علاقوں پر یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ حکومتی عہدیداران نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور حوثیوں کو شہری علاقوں پر حملے بند کرنے پر مجبور کریں۔
ماہرین کے مطابق، مارب پر حملوں میں تیزی دراصل یمن میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش ہو سکتی ہے۔ یمنی حکومت نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس طرح کی کارروائیوں سے حکومت کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ملک کی وزارت اطلاعات نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارب میں ہونے والے ان حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور متاثرین کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ جنگ زدہ یمن میں جاری اس تازہ کشیدگی نے ایک بار پھر امن مذاکرات کی بحالی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔