Politics
سکاٹ وینر کی سیاسی مہم میں اے آئی کا متنازع استعمال
کیلیفورنیا کے ریاستی سینیٹر سکاٹ وینر کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی ٹیم کی جانب سے اے آئی چیٹ بوٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی حریف کونی چن کی نقل کی گئی۔ اس واقعے کو صنفی تعصبات کو ہوا دینے اور سیاسی اخلاقیات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
کیلیفورنیا کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب ریاستی سینیٹر سکاٹ وینر کو اپنی سیاسی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے غیر اخلاقی استعمال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نینسی پیلوسی کی خالی ہونے والی نشست پر انتخاب لڑنے والے سکاٹ وینر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی حریف اور سان فرانسسکو کی سٹی سپروائزر کونی چن کی آواز اور انداز کی نقل کرنے کے لیے ایک اے آئی چیٹ بوٹ کا سہارا لیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف سیاسی شائستگی کے خلاف ہے بلکہ اس سے صنفی تعصبات کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ اس واقعے نے ٹیکنالوجی کے انتخابی عمل میں کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سکاٹ وینر کی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ اس اے آئی مواد کو سیاسی حلقوں میں انتہائی نامناسب قرار دیا جا رہا ہے۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ چیٹ بوٹ کے ذریعے کونی چن کی نقل اتارنا دراصل ووٹرز کو گمراہ کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش تھی۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی کارکنوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کا اس طرح کا استعمال جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر جب مصنوعی ذہانت کو سیاسی حریفوں کے خلاف تضحیک آمیز انداز میں استعمال کیا جائے تو اس سے معاشرتی تقسیم میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
کونی چن کے حامیوں اور کئی سیاسی مبصرین نے اس واقعے کو 'سیاسی گراوٹ' سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکاٹ وینر کو اپنی مہم میں سیاسی پروگراموں پر بات کرنی چاہیے تھی، نہ کہ اے آئی کا غلط استعمال کر کے حریف کو نیچا دکھانا چاہیے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب امریکہ بھر میں انتخابی مہمات کے دوران اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایسے اقدامات کو نہ روکا گیا تو یہ مستقبل میں شفاف انتخابات کے انعقاد میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سکاٹ وینر اپنی اس حکمت عملی کے سیاسی نقصانات کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سان فرانسسکو کی مقامی سیاست میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے سخت ضوابط وضع کیے جائیں تاکہ کوئی بھی امیدوار اپنے سیاسی مخالفین کو نقصان پہنچانے کے لیے اس طاقتور ٹیکنالوجی کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔ فی الحال سکاٹ وینر کی جانب سے اس واقعے پر کوئی معذرت سامنے نہیں آئی، لیکن ان کی انتخابی مہم اس تنازعے کی وجہ سے شدید دباؤ میں دکھائی دیتی ہے اور ووٹرز کے اعتماد کو بحال کرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔