Health
نیند کی گولی کویٹیاپین کے طبی نقصانات اور انتباہ
طبی ماہرین نے نیند کے مسائل کے لیے کویٹیاپین کے کثرت سے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ دوا بنیادی طور پر شیزوفرینیا کے علاج کے لیے منظور شدہ ہے مگر نیند کے لیے اس کا استعمال صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
جدید طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ نیند کی شکایت دور کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ایک مخصوص دوا 'کویٹیاپین' (Quetiapine) کے مضر اثرات کے بارے میں طبی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2023 میں امریکہ میں کویٹیاپین کے ایک کروڑ سے زائد نسخے جاری کیے گئے، جبکہ یہ دوا بنیادی طور پر شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر جیسے سنگین ذہنی امراض کے علاج کے لیے منظور شدہ ہے۔ نیند کی کمی یا انسومنیا کے لیے اس دوا کا استعمال ایک عام طبی رجحان بن چکا ہے جو کہ صحت کے سنگین خطرات کو دعوت دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈاکٹرز نیند کے مسائل سے دوچار مریضوں کو بغیر کسی واضح کلینیکل وجوہات کے یہ دوا تجویز کر دیتے ہیں، حالانکہ اس دوا کے ضمنی اثرات کافی پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ کویٹیاپین کا طویل مدتی استعمال وزن میں غیر معمولی اضافے، میٹابولک مسائل، ذیابیطس کے خطرات اور دیگر جسمانی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس دوا کا اثر انسانی اعصابی نظام پر بہت گہرا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اسے نیند کے لیے صرف ایک آسان حل کے طور پر استعمال کرنا طبی نقطہ نظر سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل سمجھا جاتا ہے۔
طبی برادری نے خبردار کیا ہے کہ مریضوں کو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر نیند کی گولی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کویٹیاپین جیسی طاقتور اینٹی سائیکوٹک ادویات کا مقصد دماغی توازن کو درست کرنا ہے نہ کہ صرف رات کو سکون کی نیند لانا۔ ان ادویات کے غلط استعمال سے جسم پر پڑنے والے اثرات عمر بھر کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین نے صحت عامہ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ادویات کے نسخے جاری کرنے کے عمل کو مزید سخت کیا جائے اور نیند کے مسائل کے لیے متبادل اور محفوظ طبی علاج کو فروغ دیا جائے۔
اس صورتحال کے پیش نظر مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نیند کے مسائل کے لیے کسی بھی دوا کو استعمال کرنے سے پہلے کسی ماہرِ نفسیات یا معالج سے تفصیلی مشورہ کریں اور خود سے ایسی ادویات لینے سے گریز کریں۔ صحت کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ دوا کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ کیا جائے اور صرف وہی ادویات استعمال کی جائیں جو مستند طبی معیار پر پورا اترتی ہوں۔