LIVE
Loading Breaking News...

سورج کے دھبوں اور روشنی کے پلوں کی تحقیق: سائنسی انکشافات

News Image
سائنسدانوں نے سورج پر موجود دھبوں کے درمیانی پلوں پر دیکھی جانے والی تاریک لکیروں کی اصل وجہ معلوم کر لی ہے۔ یہ تحقیق بگ بیئر سولر آبزرویٹری کے گڈ سولر ٹیلی اسکوپ سے حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے مکمل کی گئی ہے۔
ماہرینِ فلکیات نے سورج پر موجود دھبوں (Sunspots) کی ساخت اور ان کے درمیان پائے جانے والے روشنی کے پلوں (Light Bridges) پر موجود تاریک لکیروں کے ماخذ کو سمجھنے میں بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ مطالعہ سورج کی سطح پر ہونے والی مقناطیسی سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے بگ بیئر سولر آبزرویٹری (BBSO) کے جدید ترین گڈ سولر ٹیلی اسکوپ (GST) سے حاصل کردہ ہائی ریزولوشن ڈیٹا کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے، جس سے سورج کی سطح پر بننے والے ان تاریک راستوں کی ارتقائی تاریخ واضح ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق، سورج کے دھبوں کے درمیان بننے والے روشن پلوں پر تاریک لکیریں دراصل انتہائی پیچیدہ مقناطیسی میدانوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جب سورج کی سطح پر پلازما کا بہاؤ اور مقناطیسی دباؤ آپس میں ٹکراتے ہیں تو یہ خاص قسم کی ساختی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاریک لکیریں سورج کی بیرونی فضا اور اس کے اندرونی مقناطیسی نظام کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہیں، اور ان کا مطالعہ مستقبل میں شمسی طوفانوں کی پیش گوئی کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحقیقی پروجیکٹ کے لیے امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (NSF) اور نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی معاونت حاصل رہی ہے۔ محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ گڈ سولر ٹیلی اسکوپ کی مدد سے جو تصاویر اور اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں، وہ اس سے قبل کی تمام ٹیکنالوجیز سے کہیں زیادہ واضح ہیں۔ یہ معلومات اب اس بات کو سمجھنے میں مدد دیں گی کہ کس طرح سورج کی مقناطیسی توانائی خلا میں خارج ہوتی ہے اور یہ زمین کے ماحول پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مستقبل میں اس تحقیق کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ سورج کے اندرونی میکانزم کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ دریافت صرف سورج کے دھبوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ستاروں کی فزکس کے بارے میں عمومی نظریات کو بھی نئی جہت فراہم کرے گی۔ اس طرح کی تحقیق سے شمسی توانائی کے اخراج کے عمل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا، جو زمین پر موجود مواصلاتی نظام اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہے۔