LIVE
Loading Breaking News...

کینسر کے علاج میں DUSP4 کی اہمیت اور نئی تحقیق

News Image
نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ DUSP4 نامی پروٹین کینسر کے خلیات کے خلاف لڑنے والی ٹی سیلز کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ یہ دریافت کولوریکٹل کینسر کے علاج اور کار-ٹی سیل تھراپی کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ایک اہم سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ انسانی جسم میں موجود DUSP4 نامی پروٹین کینسر کے خلاف لڑنے والے ٹی سیلز (CD8+ T cells) کی کارکردگی کو بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ محققین نے اس تحقیق کا مرکز کولوریکٹل کینسر (بڑی آنت کا کینسر) کو رکھا ہے، جس میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ DUSP4 پروٹین نہ صرف کینسر زدہ خلیات کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف زیادہ مستعد بناتا ہے۔ یہ پروٹین بنیادی طور پر سیلولر سگنلنگ کے راستوں کو ریگولیٹ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مدافعتی خلیات کینسر کے خلاف بہتر طریقے سے ردعمل دیتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ DUSP4 کی موجودگی کینسر کے خلاف مدافعتی خلیوں کے ان سگنلز کو ریگولیٹ کرتی ہے جو رسولی کی افزائش کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ جب محققین نے ماؤس ماڈلز پر اس کا تجربہ کیا تو معلوم ہوا کہ جن جانوروں میں DUSP4 کی سطح بہتر تھی، ان میں کار-ٹی سیل (CAR-T cell) تھراپی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔ یہ جدید بائیوٹیکنالوجی طریقہ کار کینسر کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت سمجھا جاتا ہے، جہاں مریض کے اپنے مدافعتی خلیوں کو تبدیل کر کے کینسر کے خلیات پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ کینسر کے علاج میں درپیش سب سے بڑی رکاوٹ یعنی 'ایمونو تھراپی کے خلاف مزاحمت' کو توڑنے میں مدد دے سکتی ہے۔ کولوریکٹل کینسر جیسے پیچیدہ امراض میں اکثر ٹی سیلز اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں، تاہم DUSP4 کا عمل دخل ان خلیوں کی عمر اور ان کی حملہ آور صلاحیت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس پروٹین کو تھراپی کے دوران مصنوعی طور پر فعال کیا جائے تو کینسر کے مریضوں کے صحتیاب ہونے کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے یہ تحقیق میڈیکل سائنس کے لیے نئے راستے کھول رہی ہے۔ اب سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح DUSP4 کو براہ راست کار-ٹی سیل تھراپی کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ کینسر کے خلاف لڑنے والے یہ خلیے زیادہ دیر تک اور زیادہ طاقت کے ساتھ کام کر سکیں۔ اگرچہ یہ تجربات ابھی ماؤس ماڈلز تک محدود ہیں، تاہم طبی برادری اسے انسانی کینسر کے علاج میں ایک انتہائی اہم سنگ میل قرار دے رہی ہے۔