World
صدر ٹینوبو کا نائیجیریا میں سرمایہ کاری پر زور
صدر بولا ٹینوبو نے بیرون ملک مقیم نائیجیرین باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ ترسیلات زر کے بجائے ملک کے کلیدی شعبوں میں عملی سرمایہ کاری کریں۔ ان کا ماننا ہے کہ تارکین وطن کی سرمایہ کاری نائیجیریا کی معاشی ترقی کے لیے ایک نیا راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔
نائیجیریا کے صدر بولا ٹینوبو نے ایک اہم بیان میں بیرون ملک مقیم اپنے تمام شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں صرف پیسے بھیجنے (ترسیلات زر) تک محدود نہ رہیں، بلکہ اپنے وطن کی ترقی کے لیے نائیجیریا کے کلیدی اور اہم شعبوں میں براہ راست اور نتیجہ خیز سرمایہ کاری کریں۔ صدر ٹینوبو نے کہا کہ ملک کو اس وقت صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بیرونی سرمائے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی شہریوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے جو دنیا بھر میں اپنی محنت اور قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔
صدر ٹینوبو کا یہ بیان نائیجیریا کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تارکین وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم خاندانوں کی مدد تو کرتی ہیں لیکن ملک کی معاشی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ صدر نے کہا کہ زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نائیجیریا کے تارکین وطن کے پاس سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے نہ صرف وہ خود منافع کما سکتے ہیں بلکہ نائیجیریا کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے لاکھوں مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
حکومتِ نائیجیریا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تارکین وطن کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے پالیسیوں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ صدر ٹینوبو نے یقین دلایا کہ ان کی انتظامیہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بیرون ملک موجود نائیجیرینز اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے دوران خود کو محفوظ اور سہولت یافتہ محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور مستحکم نائیجیریا کی تعمیر ہر نائیجیرین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، چاہے وہ ملک کے اندر ہو یا باہر۔
آخر میں، صدر نے بیرون ملک مقیم نائیجیرین کمیونٹی کو دعوت دی کہ وہ اپنے تجربات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو نائیجیریا منتقل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض رقوم بھیجنے کی روایتی روش سے ہٹ کر اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی معیشت کے پہیے کو تیزی سے گھمانے کے لیے پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔ اس اقدام سے نائیجیریا نہ صرف اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا سکے گا بلکہ خطے کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے طور پر بھی اپنی پہچان مستحکم کر سکے گا۔