Technology
ابی صولہ آریولا: ڈیجیٹل تبدیلی اور اے آئی مہارتوں کی علمبردار
اسکلز کوآپ کی بانی ابی صولہ آریولا ڈیجیٹل تبدیلی کی ایک ماہر ہیں جو پسماندہ ٹیلنٹ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تعلیم فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد ٹیکنالوجی کے شعبے میں مساوی مواقع پیدا کر کے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) دنیا کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، وہیں کچھ ایسے رہنما بھی موجود ہیں جو اس تبدیلی کو سب کے لیے یکساں بنانے کے خواہشمند ہیں۔ اسکلز کوآپ (Skills Co-op) کی بانی ابی صولہ آریولا ایسی ہی ایک ممتاز شخصیت ہیں جو ڈیٹا اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی حکمت عملیوں کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور نظر انداز شدہ طبقے کے لیے ٹیکنالوجی کی نئی راہیں ہموار کر رہی ہیں۔ ان کا مشن ایسے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے جنہیں روایتی تعلیمی نظام یا مواقع تک رسائی حاصل نہیں رہی۔
ابی صولہ آریولا کی خدمات کا دائرہ کار محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ صرف چند مخصوص افراد کی ملکیت نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس تک رسائی ہر اس شخص کا حق ہے جس میں سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے اپنی تنظیم کے ذریعے ایسے تربیتی پروگرام تشکیل دیے ہیں جو خاص طور پر ان افراد پر مرکوز ہیں جو ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے کام کا مقصد ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجود مہارتوں کے خلا کو پر کرنا اور ایک متنوع ورک فورس کی تیاری ہے۔
اپنے کیریئر کے دوران، ابی صولہ نے ثابت کیا ہے کہ ڈیٹا کی درست حکمت عملی نہ صرف کاروباری مسائل حل کر سکتی ہے بلکہ سماجی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم پسے ہوئے طبقے کے نوجوانوں کو جدید ٹولز فراہم کرتے ہیں، تو ہم نہ صرف ان کی زندگیوں کو بدلتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ ان کی کاوشیں آج عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں شمولیت اور تنوع (Inclusion and Diversity) کی ایک روشن مثال بنی ہوئی ہیں۔
آخر میں، ابی صولہ آریولا کا سفر ان تمام افراد کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو تکنیکی دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر صحیح رہنمائی اور وسائل فراہم کیے جائیں، تو کوئی بھی فرد ڈیجیٹل دور میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ وہ مسلسل اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مستقبل 'ڈیجیٹل مہارتوں' کا ہے، اور اس میں شمولیت ہی اصل ترقی کی بنیاد ہے۔ ان کے اقدامات بلاشبہ آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی کی صنعت میں صنفی اور سماجی توازن کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔