Technology
مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ وائرسز اور ان کی انوکھی جینیاتی ساخت
سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ تیرہ وائرل جینومز میں ایسی تبدیلیاں پائی گئی ہیں جو قدرت میں کہیں نہیں دیکھی گئیں۔ یہ دریافت وائرولوجی کے شعبے میں نئے خطرات اور تحقیق کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک اہم سائنسی تحقیق نے دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی جانب مبذول کرائی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، اے آئی ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے جن وائرل جینومز کو تیار کیا گیا ہے، ان میں سے تیرہ ایسے وائرسز پائے گئے ہیں جن میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں یا میوٹیشنز موجود ہیں جو اب تک دریافت شدہ کسی بھی قدرتی جینوم کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ نتیجہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی نہ صرف موجودہ ڈیٹا کو ترتیب دے سکتا ہے بلکہ یہ ایسی نئی جینیاتی ترتیب بھی پیدا کر سکتا ہے جو فطرت کے ارتقائی عمل سے بالکل مختلف ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈلز محض قدرتی ارتقاء کی نقل نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک ایسی نئی راہ پر چل رہے ہیں جس کا پہلے کوئی مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مصنوعی ذہانت ڈیٹا کے تجزیے سے نتائج اخذ کرتی ہے، لیکن اس تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کردہ وائرسز کی یہ نئی اقسام سائنسی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ ان تیرہ وائرسز کی جینیاتی ساخت میں جو تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، ان کا مطالعہ یہ سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت وائرس کے پھیلاؤ یا اس کی شدت کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔
اس پیش رفت نے وائرولوجی اور بائیو ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اے آئی کے ذریعے بنائے گئے ایسے 'مصنوعی وائرسز' انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں؟ اگرچہ یہ تحقیق ابھی اپنی ابتدائی منازل میں ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والے سوالات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ سائنسی حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اے آئی کے ذریعے جینیاتی تحقیق اور وائرل جینومز کی تیاری پر سخت نگرانی اور اخلاقی ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ وبائی یا حفاظتی خطرے سے بچا جا سکے۔
آخر میں، یہ تحقیق اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی میں ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ بیماریوں کے علاج اور ویکسین کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، وہیں دوسری طرف اس کا غلط استعمال یا اس کے غیر متوقع نتائج ایک سنگین عالمی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ اب یہ سائنسدانوں پر منحصر ہے کہ وہ ان تیرہ نامعلوم میوٹیشنز کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے مفاد میں ہی استعمال ہو۔