Technology
امریکی ای پی اے پر سیمی کنڈکٹر کیمیکلز کی منظوری پر مقدمہ
تین بڑے ماحولیاتی تنظیموں نے امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے جس میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے دو نئے خطرناک کیمیکلز کی منظوری کو چیلنج کیا گیا ہے۔ تنظیموں کا موقف ہے کہ ان کیمیکلز کے مضر اثرات کے بارے میں سائنسی شواہد موجود ہونے کے باوجود ایجنسی نے جلد بازی میں انہیں استعمال کی اجازت دی۔
امریکہ میں تین بڑی ماحولیاتی تنظیموں نے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (ای پی اے) کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے دو نئے کیمیکلز کی منظوری کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ای پی اے نے ان کیمیکلز کو مارکیٹ میں فروخت کرنے اور صنعتی استعمال کی اجازت دیتے ہوئے ان کے انسانی صحت اور ماحول پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کو نظر انداز کیا ہے، حالانکہ خود ایجنسی نے تسلیم کیا تھا کہ ان مواد کی سیکیورٹی کے حوالے سے ڈیٹا میں اہم خلا موجود ہیں۔
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سیمی کنڈکٹرز اور چپس کی پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں کیمیکلز کا استعمال ناگزیر ہے، لیکن ان کیمیکلز کا غلط انتخاب نہ صرف کارکنوں کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ آبی ذخائر اور فضائی آلودگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ماحولیاتی گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی نے انڈسٹری کے دباؤ میں آ کر حفاظتی ضوابط کو کمزور کیا ہے تاکہ پیداواری عمل کو تیز کیا جا سکے۔
عدالت میں دائر کردہ دستاویزات کے مطابق، ان کیمیکلز کے بارے میں ابتدائی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انتہائی زہریلے ہو سکتے ہیں اور طویل عرصے تک ماحول میں برقرار رہ سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کیمیکلز کے استعمال پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے اور جب تک ان کی حفاظت کے بارے میں مکمل اور شفاف سائنسی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، تب تک نئی منظوریوں کا عمل روکا جائے۔ اس مقدمے سے ٹیک انڈسٹری اور ماحولیاتی تحفظ کے حامیوں کے درمیان ایک نیا محاذ کھل گیا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں چپس کی تیاری کے عمل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی ای پی اے کی جانب سے تاحال اس مقدمے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام منظوریاں سائنسی معیارات کے تحت دی گئی تھیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی کمپنیاں یہ خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ اگر ان کیمیکلز پر پابندی لگائی گئی تو اے آئی چپس کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اس شعبے میں جاری عالمی مسابقت میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ آنے والے دنوں میں عدالت کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ آیا صنعتی ترقی کو ترجیح دی جائے گی یا عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کو۔