Sports
فارمولا ای ریسنگ میں نوجوان ڈرائیوروں کو درپیش مالی چیلنجز
برطانیہ کے بائیس سالہ فارمولا ای ڈرائیور ٹیلر برنارڈ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ موٹر اسپورٹس میں اب صرف صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی رکاوٹیں ہونہار نوجوان ڈرائیوروں کے کیریئر کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن چکی ہیں۔
برطانیہ کے بائیس سالہ فارمولا ای ڈرائیور ٹیلر برنارڈ نے موٹر اسپورٹس کی دنیا کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے دور میں صرف ڈرائیونگ کی صلاحیت یا ٹیلنٹ ہی کسی کھلاڑی کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ برنارڈ، جو فارمولا ای میں ایک ابھرتا ہوا نام ہیں، کا ماننا ہے کہ کھیل کی کمرشل نوعیت نے اب اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مالی معاونت کے بغیر کسی باصلاحیت نوجوان کا عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بے پناہ ٹیلنٹ رکھنے والے کئی نوجوان صرف اس وجہ سے ریسنگ ٹریک سے دور ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے درکار بھاری فنڈز موجود نہیں ہوتے۔
ٹیلر برنارڈ کے مطابق فارمولا ای اور دیگر عالمی ریسنگ مقابلوں میں شرکت کرنے کے لیے کار ٹیموں کو اسپانسرشپ کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ ایک نوجوان ڈرائیور کے لیے اپنے ابتدائی مراحل میں فنڈز اکٹھا کرنا ایک ایسا امتحان بن چکا ہے جو ڈرائیونگ کی مہارت سے زیادہ توجہ طلب ہو گیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر نظام میں تبدیلی نہ آئی تو موٹر اسپورٹس صرف ان لوگوں کا میدان بن کر رہ جائے گا جن کے پاس سرمایہ زیادہ ہے، جبکہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت کھلاڑی اس دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال کھیل کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ کھیل کی روح اس کے مسابقتی معیار میں ہے، نہ کہ صرف مالی استطاعت میں۔
اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے برنارڈ نے بتایا کہ انہیں بھی اپنے کیریئر کے دوران ان ہی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر نوجوان ڈرائیور کا خواب فارمولا سیریز تک پہنچنا ہوتا ہے، لیکن ٹریک پر بہترین کارکردگی دکھانے کے باوجود اگر پیچھے مالی امداد کا فقدان ہو تو کھلاڑی کا مورال گر جاتا ہے۔ انہوں نے موٹر اسپورٹس کی انتظامیہ اور ٹیم مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوجوان ٹیلنٹ کو تلاش کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے مزید شفاف اور معاون پالیسیاں متعارف کروائیں۔ برنارڈ کا یہ بیان موٹر اسپورٹس کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز بن گیا ہے جہاں اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا کھیل کی دنیا کو مزید کتنا کمرشلائزیشن کا شکار ہونا چاہیے۔