LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سیاست اور ورکنگ مدرز: کیریئر اور فیملی کا توازن

News Image
امریکی سیاست میں مصروف عمل خواتین کی جانب سے کیریئر اور خاندانی ذمہ داریوں کو ایک ساتھ نبھانے کے چیلنجز پر بحث زور پکڑ رہی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ورکنگ مدرز نے ان مشکلات پر روشنی ڈالی ہے جن کا سامنا انہیں اعلیٰ سطحی کیریئر کے دوران کرنا پڑتا ہے۔
امریکی سیاست میں سرگرم خواتین، خاص طور پر وہ مائیں جو بیک وقت اعلیٰ سیاسی عہدوں پر فائز ہیں، ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کا مرکز بن گئی ہیں کہ آیا ایک انتہائی دباؤ والی کیریئر اور گھریلو زندگی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں ان مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے جن کا سامنا واشنگٹن اور دیگر ریاستی سطحوں پر کام کرنے والی ان خواتین کو کرنا پڑتا ہے جو سیاست کے ساتھ ساتھ بچوں کی پرورش اور خاندانی فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔ سیاسی زندگی کا غیر معمولی دورانیہ، مسلسل سفر، اور عوامی سطح پر اپنی موجودگی کو یقینی بنانا اکثر ان خواتین کے لیے ذاتی زندگی کو متاثر کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو سماجی توقعات اور کام کی جگہ پر موجود ماحول ہے۔ کئی سیاسی شخصیات کا ماننا ہے کہ امریکی سیاسی نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں 'فل ٹائم' سیاست دان کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے ذاتی زندگی کی قربانی ناگزیر معلوم ہوتی ہے۔ ورکنگ مدرز کا کہنا ہے کہ سیاست میں مردوں کے مقابلے میں خواتین پر ہمیشہ زیادہ تنقید کی جاتی ہے، خاص طور پر جب ان کے بچے چھوٹے ہوں۔ انہیں مسلسل یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں کے فرائض بھی بخوبی سرانجام دے سکتی ہیں۔ یہ نفسیاتی اور جذباتی دباؤ بہت سی باصلاحیت خواتین کو سیاست کے میدان سے دور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ گفتگو اب صرف ذاتی مسائل تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پالیسی سازی کی سطح پر بھی جگہ بنا لی ہے۔ خواتین سیاست دانوں کا ایک گروپ اب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کانگریس اور قانون ساز اسمبلیوں کے کام کے اوقات کار میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو فیملی فرینڈلی ہوں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق سیاسی کام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ والدین، خاص طور پر مائیں، اپنے بچوں کو وقت دے سکیں اور ساتھ ہی عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی موثر کردار ادا کر سکیں۔ یہ بحث اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ امریکی معاشرے میں صنف، سیاست اور خاندان کے باہمی تعلق پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔ آخر میں، اس مسئلے کا حل صرف انفرادی جدوجہد میں نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات میں پنہاں ہے۔ جب تک سیاسی نظام خواتین کے لیے لچکدار نہیں ہوگا، تب تک سیاست میں صنفی توازن لانا ایک خواب ہی رہے گا۔ امریکی سیاست میں یہ نئی بحث اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایک فعال جمہوریت کو ایسے ماحول کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جہاں خواتین کو اپنے کیریئر اور خاندانی زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے بلکہ وہ دونوں کو ایک ساتھ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا سکیں۔