World
شام میں امن کا پیغام: ہیلی کاپٹرز سے گلاب کی بارش
شام کے دارالحکومت دمشق میں منعقدہ سمر سیریا فیسٹیول کے دوران فوجی ہیلی کاپٹرز سے شہریوں پر گلاب کی پتیاں گرائی گئیں۔ یہ اقدام جنگ زدہ ملک میں امن اور معمول کی بحالی کی ایک علامتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شام کے دارالحکومت دمشق کے تاریخی قلعے میں منعقد ہونے والے 'سمر سیریا فیسٹیول' کے دوران ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے وہاں موجود ہزاروں شہریوں کو حیرت اور مسرت سے دوچار کر دیا۔ طویل عرصے سے خانہ جنگی اور تنازعات کا شکار رہنے والے ملک میں شامی فوج کے ہیلی کاپٹرز نے فضا سے شرکاء پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں۔ یہ منظر اس ملک کے لیے غیر معمولی تھا جہاں گزشتہ کئی برسوں سے ہیلی کاپٹرز کا استعمال صرف فوجی کارروائیوں اور تباہی پھیلانے کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔
اس تقریب کا انعقاد 'دمشق سٹاڈل' میں کیا گیا تھا جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد جشن منانے اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے پہنچی تھی۔ جیسے ہی فضا میں ہیلی کاپٹرز نمودار ہوئے تو پہلے تو لوگوں میں خوف کی لہر دوڑی، تاہم جب ان ہیلی کاپٹرز سے گلاب کی پتیوں کی بارش شروع ہوئی تو ماحول یکسر تبدیل ہو گیا۔ شرکاء نے اس اقدام کو امن کی ایک علامتی خواہش قرار دیتے ہوئے پرجوش انداز میں خیرمقدم کیا۔ یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کے حالات میں بہتری لانے اور عوام کو معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے کس طرح کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ شام اب جنگ سے نکل کر امن اور تعمیر نو کے مرحلے کی جانب گامزن ہے۔ اگرچہ ملک کو اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن دمشق کے قلعے میں ہونے والی یہ تقریب ایک خوشگوار تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ فیسٹیول کے شرکاء نے اس منفرد انداز میں امن کے اظہار کو سراہا اور اسے ملک میں پرامن معاشرتی زندگی کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
شامی حکام کے مطابق، اس تقریب کا مقصد عوام کے حوصلے بلند کرنا اور انہیں یہ باور کرانا تھا کہ ملک اب پرسکون ماحول کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گلاب کی پتیوں کی یہ بارش، جو کبھی جنگی طیاروں اور بمباری کے خوف سے جڑی ہوئی تھی، اس دن محبت اور امن کا پیغام لے کر آئی۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسے لمحات کے منتظر تھے جہاں انہیں خوف کے بجائے سکون اور خوشی کے احساسات میسر ہوں۔ یہ تقریب نہ صرف ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ شہریوں کے لیے ایک یادگار دن بھی ثابت ہوئی۔