World
لبنان میں اسرائیل کے مہلک حملے، 11 ہلاکتیں، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جو کہ جون کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سب سے بڑی کارروائی ہے۔ دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں کی حفاظت پر بات چیت جاری ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے دوران لبنانی علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ حملے جون میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک کی سب سے خطرناک اور تباہ کن کارروائیاں ہیں۔ ان حملوں نے لبنان کی جنوبی سرحدوں پر پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے اور مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی عملے کے مطابق متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ادھر دوسری جانب عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایران اور عمان کے حکام کے مابین اہم مذاکرات جاری ہیں جن کا بنیادی مقصد اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور تجارتی جہاز رانی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے اور یہاں جاری کشیدگی کے براہِ راست اثرات عالمی منڈیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کا اصرار ہے کہ خطے میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کشیدگی کا اصل سبب ہے، جبکہ عمان اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری نے دونوں محاذوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے تمام متعلقہ فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر لبنان میں جاری تنازع کو جلد نہ روکا گیا تو یہ جنگ دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے جس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ فی الحال سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں کہ جنگ کو مزید وسعت پانے سے روکا جائے، تاہم زمین پر جاری فوجی کارروائیوں نے ان امن کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔