LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں زراعت اور غذائی تحفظ کا سفر

News Image
آزادی کے آٹھ دہائیوں بعد بھارت زرعی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی سے گزرا ہے جس نے اسے غذائی قلت کے شکار ملک سے دنیا کے بڑے اناج پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کر دیا ہے۔ یہ کامیابی جدید ٹیکنالوجی اور حکومتی اصلاحات کا نتیجہ ہے جس نے ملکی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے، اور ان آٹھ دہائیوں کے سفر پر نظر ڈالی جائے تو ملک کی معاشی اور سماجی تبدیلی کی سب سے بڑی مثال زرعی شعبے میں حاصل کی گئی کامیابی ہے۔ آزادی کے ابتدائی برسوں میں بھارت کو شدید غذائی قلت کا سامنا تھا اور ملک کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر ممالک سے اناج درآمد کرنے پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ تاہم، دہائیوں پر محیط انتھک محنت، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال اور حکومتی اصلاحات نے اس تصویر کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس زرعی انقلاب میں 'سبز انقلاب' کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جس نے کاشتکاروں کو بہتر بیج، کھادوں اور آبپاشی کے جدید نظام تک رسائی فراہم کی۔ سائنسی طریقوں کو اپنانے کے بعد بھارت نہ صرف اناج کی کمی کو پورا کرنے میں کامیاب رہا، بلکہ آج وہ چاول، گندم اور دیگر اجناس کی برآمد کرنے والے صف اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں کاشتکاروں کی زندگیوں میں بہتری اور پیداوار میں اضافے کے لیے کیے جانے والے حکومتی اقدامات نے بھارت کو ایک زرعی طاقت کے طور پر ابھارا ہے۔ موجودہ دور میں بھارت کو آب و ہوا کی تبدیلی اور پانی کی قلت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال اور ڈیجیٹل ایگریکلچر جیسے اقدامات اس سفر کو مزید پائیدار بنائیں گے۔ حکومتی سطح پر اناج کے ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات اور سپلائی چین کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ فصلوں کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔ آزادی کی 80 ویں سالگرہ پر بھارت کا زرعی شعبہ نہ صرف ملک کی معیشت کا ستون ہے بلکہ یہ اس عزم کی علامت بھی ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور جدید سوچ کے ساتھ ایک بڑی آبادی کی غذائی ضروریات کو خود کفالت کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔