Science
انسان اور ڈائناسورز: ارتقائی تاریخ اور اہم حقائق
سائنسی تحقیق کے مطابق یہ سوال کہ آیا غاروں میں رہنے والے انسان ڈائناسورز سے قدیم تھے، بالکل غلط ہے۔ درحقیقت ڈائناسورز اور انسانوں کے وجود کے درمیان لاکھوں برس کا طویل ارتقائی وقفہ موجود ہے۔
عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غاروں میں رہنے والے قدیم انسان ڈائناسورز کے دور میں موجود تھے؟ اس کا سائنسی جواب ایک واضح 'نہیں' ہے۔ تاریخ ارض کا مطالعہ کرنے والے ماہرینِ پیلیونٹولوجی کے مطابق، ڈائناسورز اور انسانوں کے درمیان لاکھوں برس کا ایک بہت بڑا فاصلہ ہے۔ ڈائناسورز زمین پر اس وقت موجود تھے جب انسانی ارتقاء کا عمل شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ ڈائناسورز کروڑوں سال قبل زمین پر حکمرانی کرتے تھے اور ان کا دور میسوزوک (Mesozoic) کہلاتا ہے، جو تقریباً 6.6 کروڑ سال قبل ایک بڑے قدرتی واقعے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔
دوسری جانب، انسانوں کے قدیم ترین آباؤ اجداد کا ظہور بہت بعد میں ہوا۔ اگر ہم ارتقائی تاریخ کو سمجھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں (ہومو سیپینز) کا ظہور محض چند لاکھ برس قبل ہوا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ڈائناسورز ناپید ہو چکے تھے اور زمین پر دیگر انواع و اقسام کے ممالیہ جانوروں نے جگہ لے لی تھی۔ فلموں اور کہانیوں میں اکثر ڈائناسورز اور غاروں میں رہنے والے انسانوں کو ایک ساتھ دکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ دونوں مخلوقات ہم عصر تھیں۔ لیکن سائنسی حقائق اس تصور کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔
زمین کی تاریخ کو 'ڈیپ ٹائم' (Deep Time) کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے، جہاں کروڑوں برس کی تاریخ کو سمجھنا مشکل ضرور ہے مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ڈائناسورز کا خاتمہ انسانوں کے ارتقاء سے لاکھوں برس قبل ہو چکا تھا۔ جب ڈائناسورز زمین پر موجود تھے، اس وقت دنیا کا ماحول، آب و ہوا اور نباتات آج سے یکسر مختلف تھے۔ انسان نے اس وقت تک اپنا وجود حاصل نہیں کیا تھا، اور قدیم غاروں میں رہنے والے انسانوں کا دور، جسے پتھر کا زمانہ (Stone Age) کہا جاتا ہے، زمین کی تاریخ کے انتہائی آخری حصے میں آتا ہے۔ لہٰذا، ڈائناسورز اور انسانوں کا آپس میں کبھی سامنا نہیں ہوا۔