LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میکسیکو سرحد پر غیر قانونی تارکین وطن کو بچا لیا گیا

News Image
امریکی بارڈر پیٹرول نے سین ڈیاگو کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں گرمی سے متاثرہ غیر قانونی تارکین وطن کو دو الگ الگ کارروائیوں میں بچایا ہے۔ شدید گرمی اور پہاڑی راستوں کی مشکلات کے باعث ان افراد کی حالت تشویشناک ہو گئی تھی۔
امریکی بارڈر پیٹرول کے اہلکاروں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو کے مشرق میں واقع دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں دو الگ الگ ریسکیو آپریشنز کے ذریعے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے افراد کی زندگیاں بچائیں۔ حکام کے مطابق یہ علاقہ اپنی انتہائی ناہموار زمین اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جہاں انسانی اسمگلرز اکثر تارکین وطن کو جان لیوا خطرات میں ڈال دیتے ہیں۔ ریسکیو کی جانے والی ٹیمیں انتہائی گرم موسم اور پہاڑی راستوں کی پیچیدگی کے باوجود بروقت جائے وقوعہ پر پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریسکیو کیے جانے والے افراد شدید گرمی سے متاثر تھے اور ہیٹ اسٹروک جیسی علامات کا شکار تھے۔ بارڈر پیٹرول کے ایجنٹس نے، جو معمول کی گشت پر مامور تھے، فوری طور پر طبی امداد فراہم کی اور انہیں محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ ان کارروائیوں کے دوران ٹیموں نے ہیلی کاپٹرز اور زمینی راستوں کا استعمال کیا تاکہ کم سے کم وقت میں متاثرین تک پہنچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ علاقے خاص طور پر موسم گرما کے دوران انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں جہاں درجہ حرارت کی زیادتی انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔ بارڈر پیٹرول حکام نے ایک بار پھر تارکین وطن اور ان کے خاندانوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے لیے ان پہاڑی راستوں کا انتخاب کرنا انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ انسانی اسمگلر اکثر تارکین وطن کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں ان خطرناک راستوں پر اکیلا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد پانی کی کمی اور گرمی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ امریکی بارڈر پیٹرول اس بات پر زور دیتا ہے کہ سرحد پر انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ان کی کوششیں جاری رہیں گی، تاہم غیر قانونی نقل مکانی کا عمل نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جان لیوا خطرات سے بھی بھرا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سرحدوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود، نقل مکانی کرنے والے افراد کی جانب سے خطرناک راستوں کا استعمال ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ حکام اب ان علاقوں میں نگرانی کو مزید بڑھانے اور ممکنہ طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔ فی الحال ریسکیو کیے گئے افراد کو حراست میں لے کر ان کی قانونی حیثیت اور طبی حالت کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ ضابطے کے مطابق اگلی کارروائی کی جا سکے۔