World
غزہ میں صحافی ہند الخودری کا منفرد اقدام، ساحلی کیفے کا افتتاح
الجزیرہ کی معروف فلسطینی صحافی ہند الخودری نے غزہ کے ساحل پر ایک منفرد کیفے کھول کر جنگ سے متاثرہ شہریوں کو معمول کی زندگی کی طرف لانے کی کوشش کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تباہی کے اس دور میں لوگوں کو سکون اور امید کا ایک مقام فراہم کرنا ہے۔
غزہ کی پٹی پر جاری شدید جنگ اور تباہ کاریوں کے درمیان، الجزیرہ کی معروف فلسطینی صحافی ہند الخودری نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے غزہ کے ساحل پر ایک کیفے کا افتتاح کیا ہے۔ یہ کیفے محض ایک تجارتی مقام نہیں، بلکہ جنگ سے جھلسی ہوئی غزہ کی فضا میں زندگی کی بحالی کی ایک علامتی کوشش ہے۔ ہند الخودری، جنہوں نے جنگ کے دوران اپنی پیشہ ورانہ صحافتی ذمہ داریوں کے ذریعے دنیا کو غزہ کے حالات سے آگاہ رکھا، اب اپنی عوام کے لیے کچھ سکون کے لمحات تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
غزہ کے مکین طویل عرصے سے شدید بمباری، نقل مکانی اور خوراک و پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ ایسے میں ایک ساحلی کیفے کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام ہر حال میں جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ ہند الخودری کا ماننا ہے کہ ساحلِ سمندر ہمیشہ سے غزہ کے لوگوں کے لیے تفریح اور سکون کا مرکز رہا ہے، اور اس جگہ کو دوبارہ آباد کرنے کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ زندگی کی رمق ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ کیفے مقامی لوگوں کے لیے ایک ایسا مقام بن گیا ہے جہاں وہ کچھ دیر کے لیے جنگی ہولناکیوں کو بھول کر ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
اس اقدام کو مقامی آبادی کی جانب سے زبردست سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ انسانی ہمت کی ایک ایسی داستان ہے جو ٹوٹے ہوئے خوابوں کے درمیان امید کی نئی کونپلیں پھوٹنے کا پیغام دیتی ہے۔ ہند الخودری کی جانب سے اس کیفے کا افتتاح اس بات کا اظہار ہے کہ صحافت کے ساتھ ساتھ سماجی بہتری کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جنگ زدہ غزہ میں جہاں ہر طرف ملبہ اور ویرانی ہے، وہاں ایک ساحلی کیفے کا چلنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینی قوم اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیبی اور سماجی زندگی کو بھی برقرار رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اقدامات ہی غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ہند الخودری کا یہ قدم نہ صرف مقامی سطح پر لوگوں کی ہمت بڑھانے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ غزہ کے لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں اور وہ ہر قیمت پر اپنی معمول کی زندگی کو واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں۔