Pakistan
ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور حکومتی مذاکرات: تازہ ترین صورتحال
پاکستان میں آٹھ روزہ طویل ہڑتال کے باعث بندرگاہوں پر کنٹینرز کے انبار لگنے سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور دیگر اعلیٰ حکام مذاکرات کے ذریعے اس تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ آٹھ روز سے جاری گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکرز کی ہڑتال کے باعث ملکی معیشت اور بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کنٹینرز کے انبار لگنے سے صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جس کے پیش نظر وفاقی حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خصوصی طور پر کراچی پہنچ رہے ہیں تاکہ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کر کے اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔ اس اہم اجلاس میں سندھ کے گورنر، صوبائی وزراء اور بندرگاہوں کے حکام بھی شرکت کریں گے، جبکہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات میں ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سب سے نمایاں ہے۔ ہڑتالی ٹرانسپورٹرز مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر عائد سات فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے دو فیصد کیا جائے، جیسا کہ فیول ٹینکرز کے لیے لاگو ہے۔ تاہم، ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی شرح میں اس طرح کی بڑی تبدیلی صرف فنانس بل کے ذریعے ممکن ہے، جس پر مالی سال 28-2027 کے بجٹ میں غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، کسٹمز حکام کی جانب سے سمگل شدہ سامان کی برآمدگی پر گاڑیوں کو تحویل میں لینے کا معاملہ بھی تنازعہ کا باعث بنا ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ انہیں سرکاری یقین دہانیوں پر اب اعتبار نہیں ہے اور وہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایک مضبوط ضمانت چاہتے ہیں تاکہ ان کے مطالبات پر عملی طور پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت نے ٹرانسپورٹرز کو کچھ مطالبات پر ریلیف دینے کی پیشکش کی ہے، جس میں کراچی پورٹ پر ٹرکوں اور ٹریلرز کے لیے پارکنگ کی مخصوص سہولیات کا قیام اور ہائی ویز پر 10 وہیلر ٹرکوں کے لیے ایکسل لوڈ کی حد میں عارضی نرمی شامل ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے ترجمان محمد اویس چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک حکومت ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں اٹھاتی۔ انہوں نے بیوروکریسی پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرانسپورٹرز کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والے آج کے مذاکرات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بندرگاہوں پر مزید تاخیر ملکی برآمدات اور درآمدات کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔