LIVE
Loading Breaking News...

AI ٹیکنالوجی کا عروج اور مارکیٹ کے لیے خطرات: ماہرین کی رائے

News Image
معروف سرمایہ کار اسٹیو آئزمین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے عروج کا انحصار صرف دو بڑی کمپنیوں پر ہے جو مارکیٹ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو اس ٹیکنالوجی شفٹ کے ممکنہ نقصانات کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا موجودہ دور سرمایہ کاروں اور ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم مشہور سرمایہ کار اور 'دی بگ شارٹ' کے مرکزی کردار اسٹیو آئزمین نے اس حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسٹیو آئزمین، جو اپنی درست پیش گوئیوں کے لیے عالمی مالیاتی حلقوں میں جانے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا حالیہ عروج جتنا وسیع دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اس کی جڑیں اتنی گہری نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی شفٹ جسے گزشتہ دہائیوں کی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، درحقیقت چند مخصوص کارپوریشنز کے گرد گھوم رہی ہے۔ آئزمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کو ایک وسیع تر معاشی تبدیلی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ صرف دو بڑی کارپوریشنز کے کنٹرول میں ہے۔ یہ ارتکاز معاشی استحکام کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر ان دو کمپنیوں کی کارکردگی میں ذرا سی بھی لچک یا مندی آتی ہے، تو پوری انڈسٹری پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ سرمایہ کار اندھی تقلید میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ اسٹاکس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو آنے والے وقت میں کسی بڑے مالیاتی بلبلے (Bubble) کے پھٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسٹیو آئزمین کا یہ انتباہ اس تناظر میں انتہائی اہم ہے کہ مارکیٹ کا انحصار صرف چند بڑی ٹیک کمپنیوں پر ہے، جس سے مارکیٹ میں تنوع (Diversification) کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ آئزمین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے ٹھوس اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ کے ان چھپے ہوئے کمزور پہلوؤں پر غور کریں۔ آخر میں، اسٹیو آئزمین کی جانب سے یہ وارننگ مارکیٹ میں ایک بحث کا باعث بن گئی ہے۔ جہاں بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت کو مستقبل کا معمار مانتے ہیں، وہیں ماہرینِ معاشیات اس کے گرد قائم 'منی پولیشن' اور ضرورت سے زیادہ اعتماد کے نقصانات سے بھی خبردار کر رہے ہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا مصنوعی ذہانت کا یہ عروج پائیدار ثابت ہوگا یا یہ محض ایک وقتی ہیجان ہے جو چند بڑی کمپنیوں کی کارکردگی تک محدود ہے۔