Health
ہیپاٹائٹس سی کا علاج: ادویات کے نسخوں میں کمی کیوں آ رہی ہے؟
ہیپاٹائٹس سی کا علاج اب 95 فیصد سے زائد مریضوں کے لیے صرف 8 سے 12 ہفتوں کی دوا کے ذریعے مکمل طور پر ممکن ہے۔ ماہرین کی جانب سے اس بیماری کے خاتمے کے لیے ادویات تجویز کرنے کا رجحان 2015 کے بعد سے مسلسل گر رہا ہے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
طبی سائنس میں ہونے والی پیشرفت کے باعث گزشتہ ایک دہائی سے ہیپاٹائٹس سی کا علاج انتہائی آسان اور موثر ہو چکا ہے۔ تحقیق کے مطابق، 95 فیصد سے زائد مریض صرف 8 سے 12 ہفتوں پر مشتمل دوا کے کورس سے اس بیماری سے مکمل طور پر چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ تاہم، انتہائی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس بیماری کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کردہ نسخوں (prescriptions) کی شرح میں 2015 کے بعد سے نمایاں اور تشویشناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ صحت کے ماہرین اس صورتحال کو عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق، ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں یہ کمی کسی طبی ناکامی کی وجہ سے نہیں بلکہ آگاہی کی کمی، تشخیص کے فقدان اور صحت کی سہولیات تک رسائی کے مسائل کی وجہ سے ہے۔ اگرچہ جدید ادویات انتہائی کامیاب ثابت ہو رہی ہیں، لیکن بہت سے مریض تاحال اپنی بیماری سے بے خبر ہیں کیونکہ ہیپاٹائٹس سی اکثر ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک مریض کو اپنی بیماری کا پتہ چلتا ہے، تب تک مرض کافی حد تک بڑھ چکا ہوتا ہے، اور علاج کے لیے بروقت طبی مدد حاصل کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔
علاوہ ازیں، ادویات کے حصول کے حوالے سے ضابطہ اخلاق، مہنگائی اور مراکزِ صحت میں وسائل کی کمی بھی اس رجحان کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ صحت عامہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کو دنیا سے ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر سکریننگ کی جائے اور اس بیماری کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ وائرس مستقبل میں ایک بڑی آبادی کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔
آخر میں، طبی ماہرین نے عالمی برادری اور حکومتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر آگاہی مہمات چلائیں اور ادویات کی فراہمی کو ہر ممکن حد تک آسان بنائیں۔ اس بیماری کا علاج اب صرف چند ہفتوں کی ادویات تک محدود ہے، لہذا یہ وقت ہے کہ اس 'خاموش قاتل' کے خلاف ایک منظم اور فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کیا جائے تاکہ 2030 تک اس وبا کے خاتمے کے عالمی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔