LIVE
Loading Breaking News...

مغربی ایشیا جنگ: آبنائے ہرمز اور ایران امریکہ کشیدگی کی تازہ ترین صورتحال

News Image
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے ارادے کے اظہار کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے اس دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ تہران اپنے سمندری حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران خطے سے ایک بار پھر انتہائی اہم اور تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر اور نمایاں سیاسی شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ جلد ہی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر بالخصوص توانائی کی مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی ہے اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے امریکی عوام سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر بلند گیسولین کی قیمتوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس متنازعہ بیان کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران نے فوری اور انتہائی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس دھمکی کو صریحاً مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ تہران اپنی خودمختاری اور سمندری حدود کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی قانون کے تحت آزادانہ جہاز رانی کا ایک اہم راستہ ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کو اس پر غاصبانہ قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف، اس دوران خطے میں بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس سے جنگ کے دائرہ کار میں مزید وسعت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات سے نہ صرف امن کی کوششوں کو دھچکا لگ رہا ہے بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی براہ راست منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بدستور انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔