LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں سونے کی تازہ ترین قیمتیں اور رجحانات

News Image
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نرم افراط زر کے باعث استحکام دیکھا جا رہا ہے اور یہ 4400 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر برقرار ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں کے پیش نظر سونے کی مستقبل کی سمت کا تعین ہوگا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں 14 اگست 2026، بروز جمعہ، سونے کی قیمتوں میں ایک اہم رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سونے کے نرخ 4400 ڈالر فی اونس کی نفسیاتی سطح سے اوپر مستحکم ہیں۔ افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی نے سرمایہ کاروں کو محتاط اعتماد دیا ہے، جس کے باعث سونے کی مانگ میں ایک خاص حد تک برقرار ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ افراط زر کے دباؤ میں کمی سونے کی قیمتوں کو طویل مدت تک سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند روز کے دوران سونے کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، مگر مجموعی طور پر اس کی قدر میں استحکام نے مارکیٹ کے شرکاء کو پرامید رکھا ہے۔ تاہم، ایکس اے یو / یو ایس ڈی (XAU/USD) کے تکنیکی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ سونے کی ریلی اب بھی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث خطرات سے دوچار ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں جاری کشیدگی اور رسد و طلب کے مسائل سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ فوریکس تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک تیل کی منڈیوں میں استحکام نہیں آتا، سونے کی قیمتوں میں غیر متوقع تیزی یا مندی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگز اور شرح سود کے فیصلوں پر گہری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، وال اسٹریٹ کے ماہرین سونے کے مستقبل کے حوالے سے کافی پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے جیسے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کم ہو رہی ہیں، سرمایہ کاروں کا رجحان سونے کی خریداری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عام سرمایہ کار (مین اسٹریٹ) بھی سونے کے بارے میں خاصے پرامید ہیں اور اس کو ایک محفوظ اثاثہ گردانتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو میں شامل کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر سونے نے کچھ نقصانات کا سامنا کیا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے افراط زر کے اثرات کے بعد منافع سمیٹا ہے، لیکن طویل المدتی نقطہ نظر سے سونے کا چارٹ اب بھی مضبوطی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں فیڈرل ریزرو کے منٹس اور افراط زر کے مزید اعداد و شمار ہی سونے کی قیمتوں کی اگلی سمت کا فیصلہ کریں گے۔