Pakistan
ایم ایل ون ریلوے منصوبہ: تعمیراتی کام کا آغاز جنوری میں متوقع
پاکستان ریلویز نے ایم ایل ون منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام کا آغاز جنوری 2027 میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن پر مشتمل ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان ریلویز نے ملک کے سب سے اہم ریلوے منصوبے 'مین لائن ون' (ML-1) کے پہلے مرحلے پر تعمیراتی کام کا آغاز جنوری 2027 میں کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ وزیر ریلویز کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان ریلویز کی جدید کاری اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر طویل ٹریک کی مکمل بحالی اور اپ گریڈیشن شامل ہے۔ اس روٹ پر نئی اپ اور ڈاؤن ٹریکس بچھائی جائیں گی، جبکہ ٹریک کے دونوں اطراف باڑ لگائی جائے گی تاکہ غیر مجاز افراد، جانوروں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو روک کر حادثات سے بچا جا سکے۔
اس منصوبے کے لیے 8 ستمبر کو ایک اہم آن لائن مارکیٹ انگیجمنٹ سیشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ملکی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز، ڈیزائنرز اور کنسلٹنٹس کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد منصوبے کی تیاری، پروکیورمنٹ حکمت عملی اور تکنیکی امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق منصوبے کو جنوری میں شروع کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ٹینڈرنگ، کنٹریکٹرز کی شارٹ لسٹنگ اور دیگر رسمی کارروائیوں کو طے شدہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ قومی اہمیت کے حامل اس منصوبے میں مزید تاخیر نہ ہو۔
ایم ایل ون کا یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ یہ راہداری پاکستان کی 76 فیصد مسافر بردار اور 98 فیصد مال بردار ٹریفک کے لیے انتہائی اہم ہے، جو ملک کے بڑے صنعتی اور تجارتی مراکز کو آپس میں ملاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی-روہڑی اور روہڑی-ملتان کے سیکشنز سب سے زیادہ حساس ہیں جہاں ٹریک کی خستہ حالی کے باعث حادثات کی شرح زیادہ ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی، جس سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ ریل کا نظام معاشی طور پر بھی زیادہ مستحکم ہو سکے گا۔
پاکستان ریلویز کے ہیڈ کوارٹرز میں چیئرمین ریلوے بورڈ سید مظہر علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ ایک اہم اجلاس میں منصوبے کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعمیراتی کام کے دوران میرٹ، شفافیت اور مسابقت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل میں ڈھائی سے تین سال کا عرصہ درکار ہوگا، تاہم ابتدائی کاموں کو تیز کرنے کے لیے ہفتہ وار بنیادوں پر پیش رفت کی نگرانی کی جائے گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف ریلوے کے انفراسٹرکچر کو جدید بنائے گا بلکہ ملک میں نقل و حمل کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز بھی کرے گا۔