World
جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو امن مذاکرات کی دعوت
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے شمالی کوریا کو کوریائی جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ اس پیشکش کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی کو ختم کرنا اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے ہفتے کے روز ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے شمالی کوریا کو کوریائی جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا روس کے ساتھ اپنے فوجی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور خود کو ایک ناقابل واپسی جوہری ریاست قرار دے چکا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر نے یہ بات کوریا کی جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکانے کا ارادہ ترک کر کے براہ راست فریقین کی حیثیت سے جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ 1950 سے 1953 کے درمیان لڑی جانے والی کوریائی جنگ تاحال ایک باقاعدہ امن معاہدے کے بغیر ختم ہوئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان لڑائی صرف ایک جنگ بندی (Armistice) پر رکی تھی۔ صدر لی کا ماننا ہے کہ اگر مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے ذریعے شمالی کوریا کی جوہری صلاحیتوں کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، شمالی کوریا نے تاحال اس پیشکش پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے اور اس کے بجائے وہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف شدید احتجاج کر رہا ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت اب اپنی توجہ روس کے ساتھ تعاون بڑھانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جہاں سے اسے یوکرین جنگ کے بدلے مالی امداد، خوراک، توانائی اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج نے بھی خبردار کیا ہے کہ شمالی فوجیوں کی روس میں تعیناتی نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو بدل دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر نے اپنی پچھلی حکومتوں کے سخت موقف کو تبدیل کرتے ہوئے شمالی کوریا کو بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں قیامِ امن اور جوہری پھیلاؤ کو محدود کرنا ہے۔