Pakistan
گلگت بلتستان میں کوہ پیمائی کا بحران: خراب موسم اور تودے رکاوٹ
گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید برفانی تودوں اور خراب موسم نے کوہ پیمائی کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔ رواں برس کئی نامور کوہ پیما کے ٹو سمیت بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے میں ناکام رہے۔
گلگت بلتستان میں جاری کوہ پیمائی کا سیزن اس بار موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر متوقع موسمی حالات کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور گیشر برم-ون سمیت کئی اہم چوٹیوں پر رواں موسم گرما میں کوئی بھی کوہ پیما کامیابی سے سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑوں پر برفانی تودے گرنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے، جس نے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 غیر ملکی کوہ پیما گیشر برم-ٹو، براڈ پیک اور نانگا پربت جیسی خطرناک چوٹیوں کو سر کرنے کے مشن میں ناکام رہے ہیں۔
ٹور آپریٹرز اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں کوہ پیما جولائی کے اواخر سے اگست کے وسط تک کے عرصے کو پہاڑ سر کرنے کے لیے موزوں سمجھتے تھے، تاہم اب یہ روایتی پیٹرن تبدیل ہو چکا ہے۔ مسلسل طوفانوں، شدید برف باری اور برف کے غیر مستحکم ہونے کے باعث کوہ پیماؤں کو اپنی مہمات درمیان میں ہی ترک کر کے واپس بیس کیمپ لوٹنا پڑا۔ ایک مقامی ٹور آپریٹر غلام محمد نے بتایا کہ اس سال 200 سے زائد کوہ پیماؤں نے چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کی لیکن خراب موسم اور بار بار آنے والے تودوں کے خطرے کے پیش نظر اکثر ٹیمیں اپنی مہمات منسوخ کرنے پر مجبور ہوئیں۔ نانگا پربت پر کچھ ٹیمیں کامیاب رہیں، لیکن دیگر چوٹیوں پر حالات نہایت کٹھن رہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ایاز شکری کے مطابق، براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد، جس میں 10 کوہ پیما جاں بحق ہوئے، بہت سے کوہ پیماؤں نے رضاکارانہ طور پر اپنی مہمات چھوڑ کر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ موسمیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت پہاڑوں پر موجود برف کو غیر مستحکم کر رہا ہے، جس کی وجہ سے پتھر گرنے اور برفانی تودوں کا توازن بگڑ گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف کوہ پیماؤں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کی سیاحت اور کوہ پیمائی کی صنعت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مستقبل میں کوہ پیمائی کی منصوبہ بندی کے لیے موسمیاتی ڈیٹا میں مزید بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز کے اکرام بیگ کا کہنا ہے کہ براڈ پیک جیسے پہاڑ، جو ماضی میں نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے تھے، اب تازہ برف باری کی وجہ سے انتہائی خطرناک بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کوہ پیمائی کے بڑھتے ہوئے کمرشل رجحان اور ماحول پر پڑنے والے دباؤ نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیزن کے اختتام پر، کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد کے خالی ہاتھ لوٹنے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ کوہ پیمائی کا شعبہ اب پہلے سے کہیں زیادہ چیلنجنگ ہو چکا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ پہاڑوں پر بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر امدادی ڈھانچے کو یقینی بنائیں۔