LIVE
Loading Breaking News...

وکست بھارت 2047 کا خواب: وزیر اعظم مودی کا سات نکاتی ایجنڈا

News Image
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے سات ستونوں یا 'سپت دھاراس' کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے حکومتی وژن کا اہم حصہ ہے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی آزادی کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک اہم قومی ویژن کا اعلان کرتے ہوئے 'سپت دھاراس' (سات دھارائیں) متعارف کرائی ہیں۔ یہ سات ستون ملک کی ترقی کے سفر میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور اس کا حتمی ہدف بھارت کو سن 2047 تک ایک مکمل طور پر 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ ملک) بنانا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سات شعبے ملک کی معاشی، سماجی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، جس سے عام شہری کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی کے اس سفر میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم ایک بڑے ہدف کی طرف گامزن ہو تو سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 'سپت دھاراس' کا یہ تصور حکومتی پالیسیوں کو عوام دوست بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتا ہے، جس میں روزگار کی فراہمی، تعلیم، صحت اور جدید انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے پیش کردہ یہ سات دھارائیں دراصل 2047 کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بھارت اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور 'وکست بھارت' کا خواب درحقیقت اس معاشی طاقت کو مزید مستحکم کرنے اور عالمی سطح پر بھارت کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ ان سات ستونوں کے ذریعے ملک میں ایک نیا جوش و خروش پیدا ہوگا جو نوجوان نسل کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ آخر میں، وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگر قوم یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھے گی تو کوئی بھی طاقت بھارت کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے سے نہیں روک سکتی۔ یہ پروگرام نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی بھارت کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک مستحکم، خوشحال اور پرامن عالمی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سات ستونوں پر عملی درآمد کے لیے حکومت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر کتنے گہرے مرتب ہوتے ہیں۔