LIVE
Loading Breaking News...

کیا انسان وہیل مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہ سکتا ہے؟ حقائق

News Image
وہیل مچھلی کے پیٹ میں انسان کے زندہ رہنے کے حوالے سے اکثر کہانیاں مشہور ہیں جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک مصدقہ واقعہ موجود ہے جس میں کسی انسان کے وہیل کے منہ میں جانے کے بعد زندہ بچ جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
وہیل مچھلی کے پیٹ میں انسان کے پائے جانے یا اس کے زندہ بچ جانے کے قصے صدیوں سے انسانی تخیل کا حصہ رہے ہیں۔ قدیم لوک کہانیوں اور مذہبی روایات میں اس حوالے سے بہت سی داستانیں موجود ہیں، تاہم جب ہم سائنسی نقطہ نظر اور حقیقت پسندی سے ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں تو معاملہ کافی پیچیدہ اور مختلف نظر آتا ہے۔ زیادہ تر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر وہیل کے پیٹ میں کسے پایا گیا تھا، جس کا جواب کسی ایک سادہ کہانی میں تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ ماہرین حیاتیات کے مطابق، ایک بڑی وہیل کا منہ اور گلا انسان کو نگلنے کے لیے جسمانی طور پر اس طرح نہیں بنا ہوتا کہ وہ اسے زندہ رکھ سکے۔ وہیل مچھلیوں کی اکثریت چھوٹے سمندری جانداروں یا کریل (Krill) پر گزارا کرتی ہے۔ اگر کوئی انسان اتفاقاً ایسی وہیل کے قریب پہنچ جائے تو اس کے لیے زندہ رہنا ناممکن ہے۔ تاہم، تاریخ میں ایک آدھ ایسے واقعات کا تذکرہ ملتا ہے جنہیں 'قابلِ یقین' قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں ایک انسان وہیل کے منہ میں گیا مگر اسے نگلا نہیں گیا اور وہ معجزاتی طور پر زندہ بچ نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کہانیوں میں مبالغہ آرائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کسی انسان کا مکمل طور پر وہیل کے پیٹ (معدے) میں جانا اور وہاں زندہ رہنا سائنسی لحاظ سے غیر ممکن ہے کیونکہ وہیل کے معدے میں تیزابی مادے اور آکسیجن کی شدید کمی ہوتی ہے جو چند لمحوں میں انسان کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔ اکثر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ متاثرہ شخص وہیل کے جبڑوں کے درمیان پھنسا تھا، نہ کہ اس کے معدے کے اندر۔ لہذا، وہیل کے پیٹ میں کسی کے زندہ پائے جانے کی خبریں محض افسانوی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ سمندری حیات کے بارے میں پائی جانے والی ایسی کہانیاں دراصل انسان کے سمندر کے خوف اور اس کے اسرار سے متاثر ہو کر تخلیق کی گئی ہیں۔ آج کے جدید سائنسی دور میں ہمارے پاس ان دیوقامت سمندری مخلوقات کے بارے میں مکمل معلومات موجود ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ انسان کا وہیل کے پیٹ میں زندہ بچ جانا محض ایک قصہ ہے جس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد موجود نہیں ہے۔