LIVE
Loading Breaking News...

مودی کا سپتا دھارا وژن: بھارت کی ترقی کا نیا لائحہ عمل

News Image
وزیراعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر بھارت کی ترقی کے لیے 'سپتا دھارا' نامی ایک نئے فریم ورک کا اعلان کیا ہے۔ اس وژن کا مقصد مینوفیکچرنگ سے لے کر سافٹ پاور تک سات اہم شعبوں میں ملک کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے 79 ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایک نئے اور انقلابی فریم ورک 'سپتا دھارا' کا اعلان کیا ہے۔ یہ وژن بھارت کو سن 2047 تک ایک مکمل طور پر 'وکست بھارت' یعنی ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ آنے والے برسوں میں بھارت کی حکمتِ عملی سات اہم ستونوں پر مشتمل ہوگی، جو نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی سطح پر ملک کے وقار کو بھی بلند کریں گے۔ 'سپتا دھارا' کے اس وژن میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے، جس کا مقصد بھارت کو عالمی سپلائی چین کا ایک مضبوط مرکز بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، تکنیکی ترقی، انفراسٹرکچر کی تعمیر، اور سبز توانائی (Green Energy) کے فروغ پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ مودی کے مطابق، بھارت اب صرف ایک بڑی منڈی نہیں بلکہ ایک عالمی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر اپنی شناخت منوا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 'سافٹ پاور' کو بھی اس فریم ورک کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے تاکہ بھارت اپنی ثقافتی اور سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے دنیا میں اپنی پہچان مزید مستحکم کر سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ وژن حکومت کی جانب سے ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت نہ صرف برآمدات میں اضافے پر توجہ دی جائے گی بلکہ مقامی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا تاکہ وہ عالمی معیار کے مطابق مسابقت کر سکیں۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ 'سپتا دھارا' کا ہر ایک ستون ملک کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور ملک کو خود کفالت کی جانب گامزن رکھے گا۔ حکومت کا یہ نیا اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اپنی معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے اور عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس وژن کے عملی نفاذ کے لیے اب متعلقہ وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ مقررہ اہداف کو بروقت حاصل کیا جا سکے۔ قوم اس نئے وژن کو بھارت کے سنہرے مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم سمجھ رہی ہے، جس سے ملک میں صنعتی اور سماجی انقلاب کے نئے دور کا آغاز ہونے کی امید ہے۔