Pakistan
پنجاب میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا کے کردار پر تشویش
صوبہ پنجاب میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پنجاب ایسو ایس ایٹڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے اختیارات اور کردار کے اوور لیپ ہونے پر شدید تشویش سامنے آئی ہے۔ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں اداروں کے فرائض میں ٹکراؤ کی وجہ سے انتظامی امور میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
صوبہ پنجاب میں مہنگائی کے تدارک اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک اداروں کے حوالے سے اہم امور سامنے آئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، صوبے میں تعینات پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور حال ہی میں فعال ہونے والی پنجاب ایسوسی ایٹڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے دائرہ کار اور اختیارات میں اوور لیپنگ (تداخل) پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور انتظامی امور کے جان کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں اداروں کے فرائض کو واضح طور پر تقسیم نہ کیا گیا تو اس سے مارکیٹ میں الجھن پیدا ہوسکتی ہے اور دکانداروں یا کاروباری حضرات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں پرائس مجسٹریٹس کی کارروائیاں بھی شامل ہیں تاکہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ دوسری طرف، پیرا کا قیام بھی تجارتی و اقتصادی سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ تاہم، جب دو مختلف إدارے ایک ہی نوعیت کے ریگولیٹری یا نگران فرائض سرانجام دینے لگیں، تو اختیارات کے تصادم کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ انتظامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف انتظامی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اس کا بالواسطہ اثر عام آدمی اور تاجر برادری پر بھی پڑ سکتا ہے۔ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیں اور دونوں اداروں کے مابین رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہوئے ان کے کردار اور ذمہ داریوں کی واضح حد بندی کریں، تاکہ کسی بھی قسم کے انتظامی ابہام کو روکا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا عمل زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔