LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس اور جبران ناصر کے اعتراضات: مکمل تفصیلات

News Image
نامور سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے میر رضا علی کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں غلام نبی آفریدی کی شمولیت پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شفاف انصاف کی فراہمی کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقاتی عمل پر زور دیا ہے۔
کراچی کے معروف قانونی اور سماجی کارکن جبران ناصر نے میر رضا علی کیس کی تفتیش کے لیے قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم میں غلام نبی آفریدی کی شمولیت پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور میڈیا کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جبران ناصر کا کہنا تھا کہ اس اہم کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیشی عمل میں شامل افراد کا کردار انتہائی غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، کچھ خاص افسران کی شمولیت سے کیس کی شفافیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ جبران ناصر نے مزید کہا کہ میر رضا علی کیس میں متاثرین کو انصاف فراہم کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، تاہم تفتیشی ٹیم میں بعض ناموں کی شمولیت اس پورے عمل کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا نوٹس لیں اور ایک ایسی غیر جانبدار اور شفاف ٹیم تشکیل دی جائے جس پر فریقین کا اعتماد ہو۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ تحقیقاتی عمل میں کسی بھی قسم کے مفادات کا ٹکراؤ انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور اسے ہر صورت روکا جانا چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، کسی بھی اہم مقدمے میں تفتیشی ٹیم کی تشکیل اس کیس کے منطقی انجام تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جبران ناصر کے اس بیان کے بعد سے مختلف قانونی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے اور شہریوں کی جانب سے بھی انصاف کے شفاف عمل کے مطالبے زور پکڑ رہے ہیں۔ فی الحال، حکومتی اور پولیس حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ عوامی دباؤ اور قانونی اعتراضات کے بعد تفتیشی عمل میں تبدیلی یا وضاحت کا امکان موجود ہے۔ آخر میں، جبران ناصر نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس کیس کی ہر پہلو سے نگرانی جاری رکھیں گے تاکہ انصاف کے سفر میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ میر رضا علی کے خاندان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرنے کے لیے ایک غیر متنازعہ اور دیانتدار تفتیشی ٹیم تشکیل دیں تاکہ قانون کی بالا دستی قائم رہ سکے۔