LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کا 2047 تک 100 گیگاواٹ ایٹمی توانائی کا ہدف، نریندر مودی کا بڑا اعلان

News Image
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2047 تک ملک میں 100 گیگاواٹ ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے ہدف کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں خودکفالت، جدید ری ایکٹرز کے قیام اور شمسی توانائی کی پیشرفت کو ملکی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے کے لیے ایک طویل المدتی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سال 2047 تک 100 گیگاواٹ ایٹمی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے توانائی کا تحفظ اور مقامی سطح پر اس کی پیداوار انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل کو کارآمد بنانے اور نجی و سرکاری شعبوں کو متحرک کرنے پر کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم مودی نے انکشاف کیا کہ بھارت اس وقت پانچ نئے ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور پیشرفت پر تیزی سے کام کر رہا ہے جس سے ملکی نیشنل گریڈ میں صاف ستھری اور پائیدار بجلی کی فراہمی میں ڈرامائی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے فاسٹ بریڈر ٹیکنالوجی میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا بھی ذکر کیا اور اسے بھارت کی جوہری تحقیق اور سائنسی صلاحیتوں کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ایٹمی توانائی کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیراعظم نے پائپڈ گیس نیٹ ورک کی توسیع اور شمسی توانائی کے شعبے میں ہونے والی شاندار ترقی پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف روایتی ذرائع پر انحصار کم کر رہا ہے بلکہ متبادل اور تجدید پذیر توانائی کے ذرائع کو بھی تیزی سے فروغ دے رہا ہے۔ شمسی توانائی کی پیداوار میں اضافہ اور پائپڈ گیس کی گھر گھر فراہمی ملکی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے شعبے میں خودکفالت نہ صرف اقتصادی ترقی کی ضمانت ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنا کر بھارت عالمی سطح پر ایک پائیدار معیشت کے طور پر ابھرے گا۔ حکومت کے اس نئے ہدف سے صنعتوں کو سستی بجلی ملے گی اور ماحول میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔