LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں سونے کی ری سائیکلنگ اور سرکولر اکانومی کا نیا دور

News Image
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام کو اگلے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کے بعد ملک میں موجود سونے کے ذخائر کے مؤثر استعمال پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کی ری سائیکلنگ کو فروغ دے کر بھارت اپنی درآمدات پر انحصار کم کر کے معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
بھارت دنیا بھر میں سونے کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے جہاں ہر سال بڑی مقدار میں سونا غیر ملکی مارکیٹوں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آنے والے ایک سال کے دوران سونے کی نئی خریداری سے گریز کریں۔ اس بیان نے ملک کے اندر موجود سونے کے زبردست ذخائر کے بہتر اور موثر استعمال کے حوالے سے ایک نیا بحث و مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اپنے گھروں اور تجوریوں میں رکھے ہوئے سونے کو مؤثر طریقے سے ری سائیکل کرنے کا نظام قائم کر لے تو یہ ملک کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارتی معیشت میں سرکولر اکانومی یا دائرہ نما معیشت کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد چیزوں کو دوبارہ استعمال میں لا کر ضیاع کو کم کرنا اور بیرونی انحصار کو ختم کرنا ہے۔ سونا چونکہ بھارت کی کل درآمدات میں ایک بڑا حصہ رکھتا ہے، اس لیے ہر سال اربوں ڈالر کا زر مبادلہ صرف سونے کی خرید پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر ملک کے اندر پہلے سے موجود تجوریوں اور مندروں کے سونے کو سرکاری اور نجی سطح پر ری سائیکلنگ کے جدید نظام کے ذریعے مارکیٹ میں لایا جائے تو نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ مقامی کرنسی کی قدر میں بھی بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت کو کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عام بھارتی شہریوں کا سونے کے ساتھ ایک روایتی اور جذباتی تعلق ہے جس کے باعث لوگ اپنے پرانے زیورات کو آسانی سے بازار میں بیچنے یا ری سائیکل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ پرانے سونے کو شفاف طریقے سے پگھلانے اور اس کی درست قیمت کے تعین کے لیے ایک جامع پالیسی اور جدید انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے عوام کا اعتماد بحال ہو اور انہیں مناسب ترغیبات دی جائیں تو سونے کی ری سائیکلنگ کی صنعت ملک میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے کی ری سائیکلنگ بھارت کے لیے سرکولر اکانومی میں کامیابی کی ایک نئی داستان رقم کر سکتی ہے۔ اگر مودی حکومت اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قومی پالیسی اور ترغیباتی اسکیمیں متعارف کراتی ہے تو اس سے تجارتی خسارے میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سونے کی طلب کو اندرونی ذخائر سے پورا کرنا بھارت کی طویل المدتی معاشی خودمختاری کی جانب ایک انتہائی اہم اور مثبت قدم ہوگا۔