Business
ڈی سی سی انرجی شیئرز کی فروخت اور امریکی نجی ایکویٹی پیشکش
ڈی سی سی انرجی کی خریدو فروخت کے معاملے میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں بولی کی مخالفت کرنے والے سرمایہ کار اپنے شیئرز فروخت کر رہے ہیں۔ یہ سرمایہ کار امریکی نجی ایکویٹی فرم کی پیشکش سے بھی کم قیمت پر کھلی مارکیٹ میں اپنے حصص بیچ رہے ہیں۔
ڈی سی سی انرجی کو حاصل کرنے کی کوششوں میں ایک دلچسپ اور غیر متوقع صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ وہ سرمایہ کار جو کمپنی کے لیے 65.25 پاؤنڈ فی شیئر کی پیشکش کو ناکافی قرار دے کر اس کی شدید مخالفت کر رہے تھے، اب کھلی مارکیٹ میں اس سے بھی کم قیمت پر اپنے حصص فروخت کر رہے ہیں۔ اس رویے نے مالیاتی ماہرین اور دیگر شیئر ہولڈرز کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ڈی سی سی انرجی کے بورڈ نے امریکی نجی ایکویٹی فرم کی طرف سے پیش کی گئی اربوں پاؤنڈ کی اس بولی کی پہلے ہی سفارش کی تھی۔ تاہم، بعض بڑے سرمایہ کاروں کا مؤقف تھا کہ یہ قیمت کمپنی کی حقیقی مالیت اور اثاثوں کی قدر کا صحیح احاطہ نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قیمت پر کمپنی کی فروخت شیئر ہولڈرز کے مفاد میں نہیں ہے اور اس بولی کو مسترد کیا جانا چاہیے۔
لیکن حالیہ مارکیٹ ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ وہی معترض سرمایہ کار اب اسٹاک ایکسچینج میں جاری تجارتی سیشنز کے دوران طے شدہ خریداری قیمت سے کم ریٹ پر اپنے شیئرز بیچ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کے اس قدم سے ایسا لگتا ہے کہ وہ نقد رقم حاصل کرنے کی جلدی میں ہیں یا انہیں اندیشہ ہے کہ اگر یہ سودا منسوخ ہو گیا تو شیئرز کی قیمت میں مزید گراوٹ آ سکتی ہے۔
مالیاتی تجزئیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت سے خریدنے والی نجی ایکویٹی فرم کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اگر مزید شیئر ہولڈرز مارکیٹ میں سستے داموں اپنے حصص فروخت کرتے رہے تو بورڈ کے لیے اس سودے کو حتمی شکل دینا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ آنے والے دنوں میں ڈی سی سی کے شیئرز کی قیمت اور سرمایہ کاروں کا ردعمل اس خریدارانہ عمل کے مستقبل کا تعین کرے گا۔