Technology
کیا گلوفش کے رنگ قدرتی ہیں؟ جانئے سائنس اور جینیاتی ترمیم کی حقیقت
گلوفش کی جلد پر دکھائی دینے والے تیز اور چمکدار رنگ قدرتی نہیں بلکہ جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ سائنسدانوں نے بحری مخلوقات کے فلوروسینٹ جینز کو ان مچھلیوں میں منتقل کر کے یہ منفرد اور دلکش رنگ تیار کیے ہیں۔
ایکویریم کی دنیا میں اپنے تیز اور چمکدار رنگوں کی وجہ سے مقبول ہونے والی گلوفش (GloFish) کے بارے میں اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا اس کے یہ دلکش رنگ قدرتی ہیں یا نہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی سائنسی رپورٹس کے مطابق گلوفش کے یہ چمکدار رنگ قدرتی طور پر وجود نہیں رکھتے بلکہ یہ جدید جینیاتی انجینئرنگ اور سائنسی تحقیق کا مرہون منت ہیں۔ سائنسدانوں نے ان مچھلیوں کے اندر تیز فلوروسینٹ رنگ پیدا کرنے کے لیے سمندری مخلوقات، بالخصوص جیلی فش اور مرجان (کوئل) کے جینز کا استعمال کیا۔ جب ان بحری حیات کے چمکنے والے جینز کو عام ایکویریم مچھلیوں کے انڈوں میں منتقل کیا گیا تو ان سے پیدا ہونے والی مچھلیاں اندھیرے اور روشنی میں چمکدار اور تیز رنگوں میں نظر آنے لگیں۔ اس سائنسی عمل کو جینیاتی ترمیم (Genetic Modification) کہا جاتا ہے۔ گلوفش کی اس جینیاتی ساخت کی وجہ سے ان کے بچوں میں بھی یہ رنگ قدرتی طور پر منتقل ہوتے رہتے ہیں، تاہم بنیادی طور پر ان کی پہلی نسل کی تخلیق لیبارٹری میں سائنسی تجربات کے ذریعے ہی ممکن بنائی گئی تھی۔ شروعات میں یہ تجربات پانی کی آلودگی کو دریافت کرنے کی سائنسی تحقیق کے لیے کیے گئے تھے، لیکن بعد میں ان مچھلیوں کو تجارتی بنیادوں پر گھروں کے ایکویریم کے لیے متعارف کرا دیا گیا۔ سائنسدانوں اور ماہرینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ گلوفش عام مچھلیوں کی طرح ہی زندگی گزارتی ہے اور ان کی نگہداشت کے لیے کسی خاص سائنسی عمل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان کے سرخ، سبز، پیلے اور جامنی رنگ نیچر کا حصہ نہیں بلکہ بیوٹیکنالوجی اور جینیاتی سائنس کا ایک حیران کن اور جدید شاہکار ہیں۔