World
آزاد کشمیر الیکشن: تشدد، دھاندلی کے الزامات اور غیر سرکاری نتائج
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوران تشدد کے متعدد پُرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ایک سیاسی کارکن کی ہلاکت بھی شامل ہے۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے بعد سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل انتہائی کشیدہ ماحول اور تشدد کے پُرتشدد واقعات کے سائے میں منعقد ہوا۔ الیکشن کے دوران مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جن میں ایک سیاسی کارکن کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جس سے پورے خطے میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ پولنگ کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، تاہم کئی علاقوں میں نامساعد حالات اور بدنظمی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جن نے انتخابی عمل کو متنازع بنا دیا۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے میرپور ڈویژن کی تیرہ میں سے نو نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے، جو کہ اس الیکشن میں ایک اہم سیاسی پیشرفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان انتخابی عمل کے دوران مبینہ دھاندلی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر شدید الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ سیاسی فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر نتائج کو اثر انداز کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل میں مبینہ بے قاعدگیوں اور دھاندلی کے الزامات کے بعد نتائج معطل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی نہیں بنایا گیا اور کئی پولنگ سٹیشنز پر مخالف جماعت کی طرف سے دھونس دھاندلی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے عوام اور ووٹرز سے پرامن رہنے اور پرامن انداز میں ٹرن آؤٹ بڑھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ کو بحال رکھا جا سکے۔