World
یمن میں کشیدگی؛ حکومتی افواج کا حوثی باغیوں کے خلاف جوابی آپریشن
یمنی حکومت نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ افواج کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے نئے حملے کا بھرپور جواب دیا ہے۔ یہ پیش رفت ملک میں طویل عرصے سے جاری تنازعہ کے ایک نئے مرحلے کو ظاہر کرتی ہے۔
یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، جہاں یمنی سرکاری افواج نے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین حملے کے جواب میں جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے ان علاقوں میں اپنی جارحیت کا مظاہرہ کیا جو اس وقت سرکاری کنٹرول میں ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے۔ اس جوابی کارروائی میں یمنی سرکاری افواج کو سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں اس بات کی علامت ہیں کہ یمن میں جنگ بندی کے معاہدے کی کوششیں ابھی تک حتمی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں اور زمینی حقائق بدستور تشویشناک ہیں۔ سرکاری افواج نے جوابی حملوں میں حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ پیش قدمی کو روکا جا سکے اور اپنے زیر انتظام علاقوں کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی ذرائع کے مطابق فریقین کے مابین شدید گولہ باری اور تصادم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یمن میں جاری یہ تازہ کشیدگی نہ صرف ملک کے سیاسی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے انسانی بحران میں بھی مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے فریقین سے بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ پرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر آئیں، تاہم زمینی سطح پر ہونے والے حالیہ حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ فریقین تاحال عسکری آپشن کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سعودی اتحاد کی جانب سے سرکاری افواج کی حمایت نے اس لڑائی کو ایک نئی جہت دی ہے، جس کے بعد علاقائی سطح پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے تاہم فی الحال سرحدوں اور حساس مقامات پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔