LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور قطر کے درمیان پائلٹس کی حراست پر سفارتی کشیدگی

News Image
ایران نے اپنے گرائے گئے طیاروں کے پائلٹس کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ قطری حکام نے ان کی حراست کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں ایک نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
تہران اور دوحہ کے درمیان ایک نئی سفارتی کشیدگی اس وقت پیدا ہو گئی جب ایران نے اپنے گرائے گئے طیاروں کے مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے پائلٹس کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایرانی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان کے ملک کے فوجی طیارے حادثے کا شکار ہوئے اور ان کے پائلٹس کو ہمسایہ ملک قطر میں رکھا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے تمام تر سفارتی وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ دوسری جانب، قطری حکام نے ان الزامات کی مکمل طور پر تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ قطر کے دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ملک میں کسی بھی ایرانی پائلٹ کو حراست میں نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اس طرح کا کوئی واقعہ ان کی حدود میں پیش آیا ہے۔ قطری ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کو ایسے الزامات لگانے سے قبل حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے، کیونکہ اس قسم کے بیانات سے خطے کے دوستانہ تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوحہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی بھی عالمی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ ایران اور قطر کے تعلقات ماضی میں کافی مستحکم رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس غلط فہمی یا ممکنہ سیاسی ڈرامے کے پیچھے انٹیلیجنس معلومات کا فرق ہو سکتا ہے۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ ایک غیر جانبدار کمیٹی کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقیقت سامنے آ سکے۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے جاری ہیں تاکہ اس سفارتی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ اس واقعے کی شفافیت کے حوالے سے تاحال کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ عالمی برادری دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ ایران نے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کے پائلٹس کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ اس معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ عالمی سیاست کے تناظر میں یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید اہم موڑ اختیار کر سکتا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔