World
کم جونگ اُن اور ولادیمیر پوٹن: شمالی کوریا اور روس کے قریبی تعلقات کا اعادہ
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو پیغام بھیجا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات پر فخر کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے دفاعی اور سٹریٹجک تعاون کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے سربراہ کم جونگ اُن نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے نام ایک خصوصی پیغام ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے مابین موجود مضبوط اور دوستانہ تعلقات پر گہرے فخر کا اظہار کیا ہے۔ اس پیغام میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شمالی کوریا اور روس کے درمیان باہمی تعاون ایک نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور دونوں ممالک مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ کم جونگ اُن کے اس بیان کو عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا اور روس کے درمیان تعلقات میں بہتری کا عمل خاص طور پر حالیہ برسوں میں نمایاں ہوا ہے۔ یوکرین کے تنازعے اور مغربی پابندیوں کے بعد سے روس نے ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے پر توجہ دی ہے، جس میں پیانگ یانگ ایک اہم اتحادی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دونوں سربراہانِ مملکت کے درمیان ملاقاتیں اور باہمی دورے بھی اس بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہیں۔ کم جونگ اُن کا یہ کہنا کہ وہ اپنے تعلقات پر فخر محسوس کرتے ہیں، عالمی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ روس اور شمالی کوریا کی قربتیں اب ایک تزویراتی حقیقت بن چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سفارتی گرم جوشی کے پیچھے کئی فوجی اور اقتصادی وجوہات کارفرما ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے روس کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کے الزامات کے بعد، مغربی ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم ماسکو اور پیانگ یانگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک خودمختار دفاعی شراکت داری قرار دیا ہے۔ کم جونگ اُن کے حالیہ الفاظ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پیانگ یانگ روس کو نہ صرف ایک سیاسی حلیف بلکہ ایک ایسے سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے جو بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں اس کا کلیدی سہارا بن سکتا ہے۔ مستقبل میں ان دونوں ممالک کے درمیان فوجی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کے مزید گہرے ہونے کے امکانات ہیں۔
آخر میں، یہ صورتحال خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ روس کے لیے شمالی کوریا کا ساتھ اس کے عالمی تنہائی کے خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، جبکہ شمالی کوریا اپنی معیشت اور ٹیکنالوجی کے لیے روس کی مدد کو یقینی بنا رہا ہے۔ عالمی برادری اب ان دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کو گہری نظروں سے دیکھ رہی ہے کیونکہ یہ پیش رفت عالمی سکیورٹی کے ڈھانچے پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے پوٹن کے نام یہ پیغام ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔