LIVE
Loading Breaking News...

حوثی بحیرہ احمر میں ایران کی حکمت عملی کاپی کرنا چاہتے ہیں

News Image
یمنی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حوثی باغی خطے میں ایران کی طرز پر بحیرہ احمر کو کنٹرول کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یمنی وزیر خارجہ نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی بحیرہ احمر میں بالکل اسی طرح کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ایران آبنائے ہرمز میں استعمال کرتا ہے۔ ان کا مقصد خطے کی اہم سمندری گزرگاہوں کو اپنے اسٹریٹجک اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ہے، جس سے عالمی امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی کوششیں اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کے بحران کو بھی مزید گہرا کر دیا ہے کیونکہ بحیرہ احمر کے راستے ہونے والی تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید دھچکا لگا ہے اور مختلف ممالک اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین سمیت کئی بڑی طاقتیں حوثیوں سے رابطے میں ہیں تاکہ جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے اور عالمی تجارت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں ایک نئی جنگ اور تنازعہ کے خطرات منڈلا رہے ہیں، جو ماضی کے تنازعات سے بالکل مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے سخت سفارتی و دفاعی دباؤ کا شکار ہیں۔ عالمی برادری اب اس بات پر زور دے رہی ہے کہ بحیرہ احمر میں فوری طور پر امن بحال کیا جائے تاکہ سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور عالمی معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔