LIVE
Loading Breaking News...

چینی جہاز کا آرکٹک روٹ کے ذریعے یورپ کا سفر، وقت میں نصف کمی

News Image
چینی تجارتی جہاز نے آرکٹک کے راستے یورپ کے لیے اپنے تاریخی سفر کا آغاز کر دیا ہے، جس سے روایتی سمندری راستوں کے مقابلے میں سفری وقت آدھا رہ جائے گا۔ اس نئے سمندری روٹ کے استعمال سے عالمی تجارت اور سپلائی چین کے نظام میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔
چین نے اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے قطب شمالی (آرکٹک) کے راستے یورپ کے لیے تجارتی جہاز روانہ کر دیا ہے۔ اس نئے اور متبادل سمندری راستے کی بدولت ایشیا سے یورپ تک کے سفر کا دورانیہ روایتی روٹس کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ جائے گا۔ عالمی تجارت کے ماہرین اس پیشرفت کو معاشی اور لاجسٹکس کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے دونوں خطوں کے درمیان سامان کی ترسیل میں نمایاں تیزی آئے گی۔ ماضی میں چینی تجارتی جہازوں کو یورپ پہنچنے کے لیے نہر سویز اور آبنائے ملائکا جیسے طویل اور مصروف سمندری راستوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جہاں اکثر اوقات ازدحام اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہتا تھا۔ آرکٹک کے سمندری راستے کو ناردرن سی روٹ بھی کہا جاتا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے برف پگھلنے کے بعد اب یہ راستہ تجارتی جہاز رانی کے لیے پہلے سے زیادہ قابل استعمال ہو چکا ہے۔ اس روٹ کے استعمال سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ جہاز رانی کی کمپنیوں کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی ممکن ہو سکے گی۔ اس تاریخی سفر کے آغاز سے عالمی سپلائی چین پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفری وقت نصف رہ جانے سے مصنوعات کی بروقت فراہمی ممکن ہوگی، جس سے بالخصوص جلد خراب ہونے والی اشیاء اور اعلیٰ تکنیکی سامان کی برآمدات کو بے حد فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، کچھ ماحولیاتی ماہرین نے قطب شمالی کے حساس خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے بڑھنے پر خدشات کا اظہار بھی کیا ہے اور پائیدار پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مجموعی طور پر چین کا یہ قدم عالمی تجارتی نقشے پر ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ چین کی حکومت اور جہاز رانی کی صنعت سے وابستہ ادارے اس راستے کو مستقبل کی تجارتی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ اگر آرکٹک روٹ مسلسل اور محفوظ طریقے سے فعال رہتا ہے تو یہ نہ صرف چین اور یورپ کے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ آنے والے سالوں میں بین الاقوامی بحری تجارت کے طریقہ کار کو بھی یکسر بدل کر رکھ دے گا۔