Politics
علیم خان کا ہزارہ صوبے کے قیام اور نئی انتظامی اکائیوں کا مطالبہ
استحکامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ علیم خان نے ہزارہ صوبے کے قیام کے دیرینہ مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے ملک میں مزید انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر گورننس اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ علیم خان نے ملک میں جاری سیاسی و انتظامی بحث میں ایک اہم موقف اختیار کرتے ہوئے ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز اور بہتر گورننس کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں نئی انتظامی اکائیاں تشکیل دی جائیں۔ علیم خان کا ماننا ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت محدود ہو چکی ہے اور ملک کو ایک ایسی اصلاحاتی عمل کی ضرورت ہے جس میں انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
اپنے حالیہ بیانات میں علیم خان نے ملک کی موجودہ جمہوری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی سطح پر انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہر صوبے میں کم از کم چار انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں تاکہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام تک حکومتی سہولیات کی رسائی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزارہ کے عوام کا صوبے کا مطالبہ ایک جائز مطالبہ ہے اور اسے سیاسی تعصبات سے ہٹ کر دیکھنا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق علیم خان کا یہ بیان ملک میں صوبائی خودمختاری اور انتظامی تقسیم کے حوالے سے جاری طویل المدتی بحث کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بڑے صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔ علیم خان کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک شدید معاشی اور انتظامی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں حکومت کی کارکردگی پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
آخر میں، استحکامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں جمہوری استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت انتظامی اصلاحات کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی ڈھانچے کو بہتر نہیں بنایا گیا تو پاکستان کا جمہوری بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ علیم خان کی یہ حمایت ہزارہ صوبہ تحریک کے حامیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر ملک گیر بحث کے مزید تیز ہونے کے قوی امکانات ہیں۔