Business
سونے کی قیمتوں میں تازہ ترین کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے بعد 500 روپے فی تولہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے ردعمل کے پیش نظر مقامی صرافہ بازاروں میں یہ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
پاکستان کے صرافہ بازاروں میں گزشتہ روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران سونے کی قیمت میں 500 روپے فی تولہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ملکی سطح پر سونے کی قیمتوں میں ہونے والی اس تبدیلی کو معاشی ماہرین عالمی مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ اس سے قبل سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا تھا، تاہم تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں میں معمولی ریلیف ملنے سے خریداروں کو کسی حد تک سہولت میسر آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتیں عالمی سطح پر امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار اور ڈالر کی قدر میں تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ حال ہی میں عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں 2,400 روپے تک کا اضافہ بھی دیکھا گیا تھا، جس کے بعد مقامی سطح پر بھی قیمتیں 4,200 روپے فی تولہ تک بلند ہوئی تھیں۔ اب جبکہ مارکیٹ میں معمولی کمی آئی ہے، تو سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاط برتی جا رہی ہے تاکہ قیمتوں کے استحکام کا جائزہ لیا جا سکے۔
صرافہ بازار میں آج کے نرخوں کے حوالے سے جیولرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا رجحان غیر یقینی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ سونے کی خرید و فروخت کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں 500 روپے کی کمی ایک معمولی تبدیلی ہے، تاہم یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مقامی صارفین اس کمی کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے زیورات کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
آئندہ چند روز میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی اقتصادی اشاریوں کی روشنی میں ہوگا۔ اگر عالمی منڈی میں افراطِ زر کے اعداد و شمار میں مزید بہتری آتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید کمی یا استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم، معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو بغور دیکھ کر ہی کسی بھی فیصلے تک پہنچنا چاہیے۔ پاکستان میں فی الحال سونے کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے افراد کے لیے یہ دور انتہائی اہم ہے کیونکہ کسی بھی لمحے عالمی اثرات ملکی مارکیٹ کا رخ تبدیل کر سکتے ہیں۔