LIVE
Loading Breaking News...

ایلون مسک کا اعتراف اینتھروپک اے آئی میں سب سے آگے ایمیزون کلاؤڈ ڈیل

News Image
ٹیکنالوجی کے معروف رہنما ایلون مسک نے عوامی طور پر اعتراف کیا ہے کہ اینتھروپک کمپنی اس وقت آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دوڑ میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایمیزون کی کلاؤڈ سروسز نے اس اہم پارٹنرشپ کے نتیجے میں مارکیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف صنعت کار اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی سرفہرست کمپنیوں کے حوالے سے اپنے سابقہ موقف کو تبدیل کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ 'اینتھروپک' اس وقت اے آئی کی صنعت میں سب سے آگے ہے۔ ایلون مسک کے اس اچانک اور کھلے اعتراف نے عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ مسک اس سے قبل اس کمپنی کے حوالے سے کچھ تحفظات کا اظہار کرتے رہے تھے۔ اینتھروپک، جسے اوپن اے آئی کے سابق محققین نے قائم کیا تھا، اپنے جدید ترین اے آئی ماڈل 'کلاوڈ' (Claude) کے باعث تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس ماڈل نے پیچیدہ زبان کے فہم، کوڈنگ اور سیفٹی پروٹوکولز کے میدان میں دیگر حریفوں بشمول چیٹ جی پی ٹی کو سخت مقابلہ دیا ہے۔ ایلون مسک کا یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی ماڈلز کو بہتر بنانے اور زیادہ سے زیادہ مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی ای کامرس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی بڑی کمپنی ایمیزون نے اینتھروپک کے ساتھ اپنی کلاؤڈ پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ ایمیزون کی ویب سروسز (AWS) نے اس شراکت داری کے ذریعے کلاؤڈ مارکیٹ میں زبردست فوائد حاصل کیے ہیں، جس کے تحت اینتھروپک اپنے ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے ایمیزون کے بنیادی انفراسٹرکچر اور جدید چپس کا استعمال کر رہی ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف ایمیزون کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کلاؤڈ انڈسٹری میں اس کی برتری بھی قائم ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کا یہ بیان اے آئی کی دنیا میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مسک خود بھی اپنی کمپنی 'xAI' اور اس کے ماڈل 'گروک' (Grok) کے ذریعے اس مقابلے کا حصہ ہیں، تاہم اینتھروپک کی اس شاندار کامیابی اور ایمیزون کے ساتھ اس کے اتحاد نے مارکیٹ کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ دیگر بڑی کمپنیاں جیسے گوگل اور مائیکروسافٹ اس نئی صورتحال کا مقابلہ کیسے کرتی ہیں۔