World
انڈونیشیا زلزلہ: 47 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
انڈونیشیا میں آنے والے ایک طاقتور زلزلے کے نتیجے میں سینکڑوں عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کم از کم 47 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں اور نقصان کا جائزہ لینے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
انڈونیشیا میں حالیፉہ طور پر آنے والے ایک انتہائی طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 47 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی زد میں آ کر سینکڑوں رہائشی اور تجارتی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔ مقامی حکام اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے بعد سے حکام نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے اور تیز رفتار جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس ابتدائی جائزے کا مقصد ان علاقوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور جہاں فوری طبی امداد، خوراک اور عارضی پناہ گاہوں کی اشد ضرورت ہے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے آسمان تلے نکل آئے، جبکہ آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہنے کی وجہ سے لوگ گھروں میں واپس جانے سے گریزاں ہیں۔
حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ہیوی مشینری کی مدد سے ملبے کو ہٹانے کا کام کیا جا رہا ہے تاکہ ملبے تلے دبے ممکنہ زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کیا جا سکے، تاہم اندھیرے اور سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی مقامات پر رابطہ سسٹمز عارضی طور پر منقطع ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور مختلف فلاحی اداروں نے بھی اس قدرتی آفت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ زلزلہ زدگان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی پیکیج دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انڈونیشیائی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ متاثرین تک جلد از جلد امداد پہنچائی جا سکے۔ زلزلے کے اس روح فرسا واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا دی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور انفراسٹرکچر کتنا اہم ہوتا ہے۔