LIVE
Loading Breaking News...

اکتوبر کے اسرائیلی انتخابات اور عوام کی ترجیحات کا تجزیہ

News Image
اسرائیل میں جاری جنگوں اور کشیدہ صورتحال کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات کے نتائج اندرونی اور گھریلو مسائل پر منحصر ہوں گے۔ انتخابات کے قریب آتے ہی اسرائیلی عوام کی ترجیحات میں بنیادی طور پر ملکی معیشت اور مقامی چیلنجز سر فہرست ہیں۔
اسرائیل میں اکتوبر کے متوقع انتخابات کے حوالے سے سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے، جہاں ایک طرف ملک کو خطے میں شدید تنازعات اور جنگی صورتحال کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اس بار انتخابی نتائج طے کرنے والے اصل امور خارجہ پالیسی یا جنگی حکمت عملی کے بجائے مقامی اور گھریلو نوعیت کے ہوں گے۔ روایتی طور پر سکیورٹی کو ہمیشہ سے اسرائیلی سیاست میں مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے، لیکن حالیہ صورتحال نے ان روایات کو کسی हद تک تبدیل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک منقسم معاشرے میں جہاں عوام کو شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور اندرونی سیاسی کشمکش کا سامنا ہے، وہاں ووٹرز کی توجہ روزمرہ کے مسائل پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اگرچہ غزہ اور دیگر محاذوں پر جاری جنگیں بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں رہتی ہیں، لیکن عام شہری کی زندگی پر اثر انداز ہونے والے عوامل مثلاً روزگار، ٹیکسز اور حکومتی کارکردگی انتخابی مہم کا محور بنتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اب اپنی انتخابی حکمت عملی کو ووٹرز کے ان ہی داخلی خدشات کے گرد گھما رہی ہیں۔ اسرائیلی معاشرہ اس وقت گہرے سیاسی اور سماجی اختلافات کا شکار ہے، جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کا قبل از وقت اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حکومت مخالف مظاہروں اور عدالتی اصلاحات جیسے متنازع امور نے عوام کو مختلف خیموں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہر طبقہ فکر اس بات کا خواہاں ہے کہ آنے والی حکومت ان کے بنیادی حقوق اور تحفظات کو یقینی بنائے، جس کے باعث سیاستدانوں کے لیے تمام حلقوں کو خوش رکھنا یا متفقہ ایجنڈا پیش کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں جنگی بیانیے کو ابھار کر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر عوام کی اصل توجہ روزمرہ کے گھریلو مسائل پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ جو بھی ہو، اکتوبر کے یہ انتخابات اسرائیل کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، اور تمام جماعتوں کو ووٹرز کے بدلتے ہوئے مزاج کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔