World
روسی فضائی حملے اور رومانیہ میں نیٹو کا ڈرون گرانے کا واقعہ
روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں یوکرین میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی ہے جبکہ نیٹو کے لڑاکا طیارے نے رومانیہ کی فضائی حدود میں ایک مشکوک ڈرون کو مار گرایا ہے۔ رومانیہ کی وزارتِ دفاع نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یوکرین پر روس کے جاری فضائی حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، تازہ کارروائیوں کے دوران ایک یوکرینی خاتون جاں بحق ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملے ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے جہاں بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کے حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مزید دفاعی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ شہریوں کو فضائی کارروائیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ دوسری جانب جنگ کے اثرات اب ہمسایہ ممالک تک بھی پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک الگ واقعے میں نیٹو کے ایک لڑاکا طیارے نے رومانیہ کی فضائی حدود کے قریب ایک مشکوک ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا ہے۔ رومانیہ کی وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ نیٹو کے الرٹ طیاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خطرے کو ناکام بنایا۔ وزارت نے اگرچہ فوری طور پر ڈرون کی اصل اور ملکیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا، تاہم ماضی میں ایسے واقعات کی زد میں آنے والے رومانیہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ماضی میں بھی ایسے واقعات کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے یورپی ممالک بالخصوص نیٹو کے اراکین کی سکیورٹی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کے تنازع کا دائرہ کار پھیلنا خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ نیٹو اتحادی اپنے فضائی دفاع کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال یا سرحدی خلاف ورزی سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کے بعد سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف رہنماؤں کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ جنگ صرف یوکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے براہِ راست اثرات پڑوسی ممالک کی سلامتی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں نیٹو کی جانب سے اپنی سرحدی سکیورٹی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ اتحادی ممالک کی فضائی حدود کے تقدس کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔