LIVE
Loading Breaking News...

حیدرآباد: گھریلو تشدد کی شکار انڈونیشی خاتون بازیاب، شوہر گرفتار

News Image
حیدرآباد پولیس نے عدالتی احکامات پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ گھریلو تشدد کی شکار انڈونیشی خاتون کو بازیاب کرا لیا ہے۔ خاتون اور اس کی شیرخوار بچی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انڈونیشیا کے قونصل خانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حیدرآباد کے ضلع پولیس حکام نے ہفتے کے روز عدالتی احکامات کی روشنی میں ایک کارروائی کرتے ہوئے انڈونیشی خاتون انداہ مریان کو بازیاب کرا لیا اور اسے اس کے ملک کے قونصل خانے کے حوالے کر دیا۔ حکام کے مطابق اس خاتون نے اپنے شوہر نائیک محمد شیخ عرف محمد حمزہ مرزا کے خلاف انڈونیشی قونصل خانے میں گھریلو تشدد کی شکایات درج کرائی تھیں، جس کے بعد سفارتی سطح پر یہ معاملہ اٹھایا گیا اور حکومتِ سندھ سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی۔ اس حوالے سے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملازم اشتیاق چنا کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فائیو کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت بازیابی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ ایس ایس پی حیدرآباد شہزیب چاچھر نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت کی ہدایت پر پولیس نے کارروائی کی اور متاثرہ خاتون کو اس کی شیرخوار بچی سمیت بازیاب کرا کے جوڈیشل نگرانی میں انڈونیشی قونصل خانے کے حکام کے سپرد کیا۔ پولیس نے اس کارروائی کے دوران خاتون کے شوہر نائیک محمد کو بھی حراست میں لے لیا ہے، جو قاسم آباد کے علاقے گل لطیف ہاؤسنگ سوسائٹی کا رہائشی ہے۔ محکمہ خواتین کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خاتون کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر قید میں رکھا گیا تھا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو اس سلسلے میں 8 اگست کو باقاعدہ درخواست موصول ہوئی تھی جس میں خاتون کی جانب سے شوہر کے ہاتھوں تشدد اور ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ انڈونیشی قونصل خانے نے کراچی میں معاملے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے سندھ کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سے رابطہ کیا تھا تاکہ خاتون اور اس کے بچے کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے ایس ایچ او متعلقہ کو فوری طور پر خاتون کو بازیاب کرا کر 13 اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر پولیس نے کامیابی سے عملدرآمد کیا۔