Business
تھرائیو فنڈ میں نمایاں اضافہ، اے آئی سرمایہ کاری کا کمال
جیرڈ کشنر کا تھرائیو کیپیٹل فنڈ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کامیاب اور بڑی سرمایہ کاری کے باعث سات گنا بڑھ گیا ہے۔ اس فنڈ نے مارکیٹ کے روایتی طریقوں کے برعکس مخصوص کمپنیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
جیرڈ کشنر کے تھرائیو کیپیٹل فنڈ نے وینچر کیپٹل کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری میں سات گنا اضافہ کیا ہے، جس کے بعد اس فنڈ کا حجم بڑھ کر 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس شاندار مالیاتی کامیابی کے پیچھے بنیادی محرک مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں کی جانے والی اسٹریٹجک اور بڑی سرمایہ کاری ہے۔ تھرائیو فنڈ نے روایتی وینچر کیپٹل فرموں کے برعکس ایک منفرد اور جرأت مندانہ حکمت عملی کا انتخاب کیا، جس نے اسے چند ہی سالوں میں بلندیوں پر پہنچا دیا۔
روایتی سرمایہ کاری کے اصولوں کے برعکس، جو عام طور پر اپنے سرمائے کو درجنوں مختلف کمپنیوں میں پھیلا کر خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تھرائیو فنڈ نے ایک بالکل مختلف راستہ اپنایا۔ اس فرم نے پوری مارکیٹ کا احاطہ کرنے یا اوسط درجے کی کمپنیوں میں چھوٹے فنڈز لگانے کے بجائے صرف چند چیدہ اور انتہائی صلاحیت کی حامل کمپنیوں پر اپنی توجہ مرکوز کی۔ یہ توجہ اور ارتکاز کا وہی طریقہ ہے جس نے تھرائیو کیپیٹل کو وینچر کیپٹل کی صنعت میں ایک منفرد مقام دلایا اور اسے نمایاں کامیابی سے ہمکنار کیا۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران جو غیر معمولی ترقی دیکھی گئی ہے، تھرائیو نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کی مانگ میں اضافے کے ساتھ ہی ان چند منتخب کمپنیوں کی قدر میں بھی آسمانی چوٹیوں کو چھونے والا اضافہ ہوا جن میں تھرائیو نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ فنڈ کا حجم جو ماضی میں نسبتاً محدود تھا، اب بڑھ کر 3.7 ارب ڈالر کیش اور اثاثوں کی شکل میں سامنے آ چکا ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تھرائیو کیپیٹل کی یہ کامیابی آنے والے وقتوں میں وینچر کیپٹل کی دنیا میں سرمایہ کاری کے انداز کو یکسر بدل سکتی ہے۔ روایتی طریقوں سے ہٹ کر صرف ہائی پوٹینشل اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی کمپنیوں میں بڑا سرمایہ لگانے کا یہ ماڈل اب دیگر بڑی فرموں کے زیرِ غور بھی آ رہا ہے۔ جیرڈ کشنر اور تھرائیو فنڈ کی یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ درست وقت پر جدید ٹیکنالوجی بالخصوص اے آئی پر اعتماد کرنا کسی بھی ادارے کو فرنٹ لائن پر لا کھڑا کر سکتا ہے۔